وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں بڑھتی ہوئی پانی کی کمی کے جواب میں شہدرہ اور دوتھارا کے مقام پر دو نئے ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے منگل 18 اگست 2026 کو ایوان کو بتایا کہ دونوں منصوبوں کی فزیبلٹی واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ذریعے تیار کی جارہی ہے اور انہیں تین سے چار سال میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ تفصیل اسلام آباد میں پانی کی قلت، صاف پانی کی فراہمی، ری سائیکلنگ اور تطہیر کے منصوبوں سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں دی گئی۔ وزیر مملکت کے مطابق وفاقی دارالحکومت کو روزانہ تقریباً 24 کروڑ گیلن پانی درکار ہے، جبکہ موجودہ دستیابی صرف 8 کروڑ گیلن یومیہ ہے۔ اس حساب سے طلب اور رسد کے درمیان 16 کروڑ گیلن کا فرق موجود ہے، جسے مختلف منصوبوں اور پانی کے بہتر استعمال سے کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ شہدرہ اور دوتھارا ڈیم مکمل ہونے کے بعد اسلام آباد کی آئندہ 30 سے 40 سال کی پانی ضروریات پوری کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم منصوبوں کی موجودہ حیثیت فزیبلٹی مطالعات کی ہے؛ حتمی لاگت، تعمیراتی ڈیزائن، ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت اور کام شروع ہونے کی قطعی تاریخ اس بیان میں فراہم نہیں کی گئی۔ اس لیے تین سے چار سال کا دورانیہ اعلان کردہ حکومتی ہدف ہے، مکمل شدہ تعمیراتی معاہدہ نہیں۔
حکومت نے پانی کے نئے ذخائر کے ساتھ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے اقدامات بھی بیان کیے۔ وزیر مملکت کے مطابق متعلقہ قوانین میں ترمیم کی گئی ہے، بارش کا پانی جمع کرنے کے کنویں بنائے جارہے ہیں اور نئی عمارتوں کے نقشے بارش کا پانی محفوظ کرنے کی سہولت کے بغیر منظور نہیں ہوں گے۔ نئی اسکیموں کی منظوری کے معیاری طریقۂ کار میں بھی رین واٹر ہارویسٹنگ شامل کردی گئی ہے۔
اسلام آباد کے پرانے سیکٹروں میں بوسیدہ پانی کی پائپ لائنیں ڈیڑھ سال کے اندر تبدیل کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کام کا پی سی ون تیار ہوچکا ہے۔ پرانی لائنوں کی تبدیلی سے رساؤ اور تقسیم کے نقصانات کم کرنے کی کوشش ہوگی، لیکن ایوان میں پائپ لائنوں کی مجموعی لمبائی، مرحلہ وار شیڈول یا منظور شدہ رقم کی مکمل تفصیل نہیں دی گئی۔
وزیر مملکت نے پانی کے بلوں کی کم وصولی کو بھی نظام کے لیے مسئلہ قرار دیا۔ ان کے مطابق مجموعی وصولی صرف 10 فیصد کے قریب ہے، اور بعض خوش حال سیکٹروں میں بھی کم مالیت کے ماہانہ بل ادا نہیں کیے جاتے۔ انہوں نے ارکان اسمبلی سے وصولی بہتر بنانے میں تعاون اور شہریوں سے گاڑیاں دھونے جیسے کاموں میں پانی ضائع نہ کرنے کی اپیل کی۔
لہتراڑ روڈ اور ملحقہ غیر منصوبہ بند آبادیوں کا سیوریج پانی کے ذرائع کو آلودہ کرنے کا ایک الگ مسئلہ بتایا گیا۔ بیان کے مطابق اس علاقے میں 30 سے 40 ارب روپے کے درمیان لاگت کا سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ نصب کیا جارہا ہے، جبکہ آئی نائن میں بھی ایک ٹریٹمنٹ پلانٹ قائم کیا جارہا ہے۔ ڈیم، پائپ لائن، بارش کا پانی محفوظ کرنے اور سیوریج کی صفائی کے یہ اقدامات ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ دارالحکومت کے پانی نظام کے مختلف حصوں سے متعلق ہیں۔
منصوبوں کی پیش رفت جانچنے کے لیے فزیبلٹی کی تکمیل، مالی منظوری، زمین اور ماحولیاتی تقاضوں، تعمیراتی ٹینڈر اور عمل درآمد کے باقاعدہ شیڈول اہم ہوں گے۔ شہریوں کے لیے فوری نتیجہ ابھی متوقع نہیں، کیونکہ ڈیموں کے لیے بیان کردہ مدت کئی سال ہے۔ اس دوران پانی کے تحفظ، بل وصولی، پائپ لائن مرمت اور آلودگی روکنے کے اقدامات موجودہ رسد پر دباؤ کم کرنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔




