پاکستان ویمن لیڈرز مینٹورشپ پروگرام کا ضلعی تعارفی اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جہاں مختلف پیشہ ورانہ اور سماجی پس منظر رکھنے والی خواتین کو پروگرام کے مقاصد، رہنمائی کے سفر اور آئندہ سرگرمیوں سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں سیاست، ذرائع ابلاغ، کاروبار، سول سوسائٹی، قانون اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین نے شرکت کی۔
اجلاس سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن نے اسلام آباد میں اپنے دفتر میں منعقد کیا۔ یہ سرگرمی پروگرام کے گزشتہ ماہ ہونے والے آغاز کے بعد ضلعی سطح پر شرکا کو عملی طریقہ کار سمجھانے کے لیے رکھی گئی تھی۔ منتظمین کے مطابق رہنمائی کا مقصد صرف ایک وقتی تربیتی نشست نہیں بلکہ تجربہ رکھنے والی خواتین اور ابھرتی ہوئی قیادت کے درمیان مسلسل رابطہ بنانا ہے۔
اس پروگرام کو یورپی یونین کی مالی معاونت حاصل ہے، جبکہ اقوام متحدہ خواتین پاکستان اور ٹرسٹ فار ڈیموکریٹک ایجوکیشن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی اسے مشترکہ طور پر اپنے شراکت دار اداروں کے ذریعے نافذ کررہے ہیں۔ اسلام آباد میں سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن عمل درآمد کے شراکت داروں میں شامل ہے۔ اس ادارہ جاتی ترتیب کا مقصد مختلف اضلاع میں ایک نسبتاً یکساں رہنمائی ڈھانچہ فراہم کرنا ہے۔
تعارفی اجلاس میں خواتین کی قائدانہ صلاحیت بڑھانے، پیشہ ورانہ اور سیاسی روابط وسیع کرنے اور عوامی و سیاسی زندگی میں مؤثر شمولیت کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دی گئی۔ رہنمائی پروگرام میں تجربہ، عملی رکاوٹوں اور فیصلہ سازی کے طریقوں پر گفتگو شامل ہوسکتی ہے، تاکہ شرکا اپنے شعبوں میں موجود مواقع اور ذمہ داریوں کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ مختلف شعبوں کی خواتین کو ایک پلیٹ فارم پر لانے سے تجربات کا تبادلہ اور باہمی مدد کا نیٹ ورک بن سکتا ہے۔ عوامی امور میں خواتین کی شرکت محض نمائندگی کی تعداد تک محدود نہیں؛ پالیسی سمجھنے، مؤثر ابلاغ، ادارہ جاتی رابطے اور ذمہ دار فیصلہ سازی کی عملی صلاحیت بھی اہم ہے۔ پروگرام انہی پہلوؤں پر منظم رہنمائی دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔
پاکستان ویمن لیڈرز مینٹورشپ پروگرام کے لیے درخواستیں 28 اگست 2026 تک کھلی رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ دلچسپی رکھنے والی خواتین کو منتظمین کے باضابطہ پورٹل پر اہلیت، مطلوبہ معلومات اور درخواست کے مراحل دیکھنے چاہییں۔ آخری تاریخ کے باعث درخواست گزاروں کے لیے غیر سرکاری سوشل میڈیا پیغامات کے بجائے اصل پروگرام پورٹل کی شرائط کی تصدیق ضروری ہے۔
موجودہ اجلاس پروگرام کے تعارفی اور اندراجی مرحلے کی پیش رفت ہے؛ اس سے شرکا کے حتمی انتخاب، رہنماؤں کی تقسیم یا نتائج پہلے سے طے نہیں ہوجاتے۔ آئندہ مرحلوں میں منتخب شرکا، رہنمائی کی مدت، تربیتی نشستوں اور ضلعی سرگرمیوں کی تفصیل سامنے آنے کی توقع ہے۔ پروگرام کی حقیقی افادیت کا اندازہ اس بات سے ہوگا کہ تربیت کے بعد خواتین کو فیصلہ سازی اور عوامی زندگی میں قابلِ پیمائش مواقع اور مستقل رابطے کس حد تک میسر آتے ہیں۔




