قانونی مقدمات نمٹانے کی کابینہ کمیٹی نے سرکاری خریداری کے نظام میں مجوزہ اصلاحات کا جائزہ لیتے ہوئے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2002 اور سرکاری خریداری کے مسودہ قواعد 2025 میں تبدیلیوں پر تفصیلی غور کیا ہے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اجلاس میں شفافیت، ادارہ جاتی خود مختاری اور مؤثر جواب دہی کو سرکاری خریداری کے عمل کی بنیادی ضرورت قرار دیا۔

زیر غور تجاویز میں شکایات کے آزادانہ ازالے کا نظام، تیسرے فریق کے جائزے اور نگرانی کو مضبوط بنانا، مفادات کے ٹکراؤ کی روک تھام اور ریگولیٹری ادارے کی خود مختاری شامل ہیں۔ سرکاری خریداری میں یہ نکات اس لیے اہم ہیں کہ قواعد کی غیر واضح تشریح، فیصلہ کرنے والے ادارے اور بولی دینے والے فریق کے ممکنہ مفادات، یا اپیل کے کمزور طریقے سے مسابقت اور عوامی اعتماد متاثر ہوسکتا ہے۔

اجلاس میں پیپرا کے کردار اور اختیارات کو زیادہ مؤثر بنانے اور مرکزی ای پروکیورمنٹ پلیٹ فارم کے استعمال کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا۔ ڈیجیٹل نظام خریداری کے مراحل، بولیوں، فیصلوں اور منظوریوں کا قابل تلاش ریکارڈ قائم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن شفافیت صرف پلیٹ فارم سے نہیں آتی۔ قواعد کی یکساں پابندی، بروقت معلومات، محفوظ ریکارڈ اور آزاد نگرانی بھی ضروری ہوگی۔

کمیٹی نے نیشنل ٹیرف کمیشن ایکٹ 2015 اور سیف گارڈ میژرز آرڈیننس 2002 میں مجوزہ ترامیم کا بھی جائزہ لیا۔ نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کی تقرری اور دوبارہ تقرری سے متعلق نظرثانی شدہ قواعد پر میرٹ اور شفافیت یقینی بنانے کی ضرورت بیان کی گئی۔ یہ موضوعات سرکاری خریداری سے الگ قانونی معاملات ہیں، مگر اسی کمیٹی کے ایجنڈے میں زیر بحث آئے۔

متبادل ادویات اور صحت مصنوعات کے مجوزہ قواعد 2026، مختلف اقسام کے لیے الگ لائسنس اور تجدید کے طریقہ کار پر بھی غور ہوا۔ اسی طرح بایو اسٹڈی قواعد 2017 میں تبدیلیوں کے ذریعے طبی تحقیق کے ضابطوں کو زیادہ مؤثر اور بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ بنانے کی تجاویز دیکھی گئیں۔ اجلاس کی رپورٹ میں کسی مخصوص دوا یا علاج کی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا۔

وزیر قانون نے قانونی زبان سے غیر ضروری پیچیدگی اور ابہام دور کرنے کی ہدایت دی۔ سرکاری خریداری میں واضح زبان اس لیے اہم ہے کہ ادارے، سپلائر اور نگرانی کرنے والے فورم ایک ہی معیار سمجھ سکیں۔ تاہم مجوزہ ترامیم ابھی جائزے کے مرحلے میں ہیں؛ ان کی حتمی عبارت، منظوری، نفاذ کی تاریخ اور عملی طریقہ بعد کی کارروائی سے واضح ہوگا۔

اصلاحات کی کامیابی کا پیمانہ یہ ہوگا کہ سرکاری بولیوں میں حقیقی مسابقت بڑھے، شکایات منصفانہ اور بروقت نمٹیں، فیصلوں کا ریکارڈ عوامی نگرانی کے قابل ہو اور مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق قواعد نافذ ہوں۔ اردو ہیڈ لائنز ڈیسک اس وقت کابینہ کمیٹی میں زیر غور تجاویز رپورٹ کر رہا ہے، نہ کہ ان کے حتمی قانون بننے یا تمام سرکاری خریداری پر فوری نفاذ کا دعویٰ۔