پنجاب کے سرکاری پرائمری اسکولوں میں جماعت اول سے پنجم تک ایسا تصوراتی نصاب تیار کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے جس میں رٹنے کے بجائے سمجھ، مشاہدے، سوال پوچھنے، تجزیے اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت پر زور ہوگا۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر پرائمری ویمن ڈاکٹر ہاجرہ شاہین نے بتایا کہ مجوزہ نصاب بچوں کی عمر، ذہنی سطح اور سیکھنے کی مختلف ضروریات کے مطابق سرگرمیوں پر مبنی ہوگا۔

منصوبے کا بنیادی فرق تدریس کے طریقے میں ہوگا۔ روایتی طریقے میں طالب علم اکثر تعریف یا جواب یاد کرکے امتحان دیتا ہے، جبکہ تصوراتی تدریس میں اسے مثال، تجربہ، گفتگو یا عملی سرگرمی کے ذریعے یہ سمجھانا مقصود ہوتا ہے کہ جواب کیوں درست ہے اور اسے نئی صورت حال میں کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ریاضی میں صرف قاعدہ یاد کرانے کے بجائے روزمرہ مسئلہ حل کرنا اور سائنس میں عبارت کے ساتھ مشاہدہ یا سادہ تجربہ اس طرز کی مثالیں ہوسکتی ہیں۔

افسر کے مطابق استاد کا کردار محض کتاب پڑھانے والے سے بڑھ کر رہنما اور سرگرمی منظم کرنے والے کا ہوگا۔ اس تبدیلی کے لیے اساتذہ کی تربیت مرکزی شرط ہے، کیونکہ نئی کتاب پرانا طریقہ برقرار رکھتے ہوئے مطلوبہ نتیجہ نہیں دے سکتی۔ تربیت میں سبق کی منصوبہ بندی، بچوں کی سطح کے مطابق سوال، گروپ سرگرمی، سیکھنے کی کمزوری کی شناخت اور مسلسل جائزے کے طریقے شامل کرنا ہوں گے۔

مجوزہ نصاب میں بچوں پر کتابوں اور غیر ضروری مواد کا بوجھ کم کرنے، زبان سادہ رکھنے اور عمر کے مطابق مواد ترتیب دینے کی بات بھی کی گئی ہے۔ نئی درسی کتابیں تعلیمی سال 2027–28 کے لیے منصوبہ بند بتائی گئی ہیں۔ یہ وقت نصاب لکھنے، ماہرین کی جانچ، محدود اسکولوں میں آزمائش، اساتذہ کی تیاری، کتابوں کی طباعت اور تقسیم کے لیے استعمال ہونا چاہیے تاکہ پورے صوبے میں یک دم نفاذ سے پیدا ہونے والی خامیاں کم کی جاسکیں۔

ابتدائی جماعتوں میں مصنوعی ذہانت سے متعلق بنیادی تعلیم بھی 2027–28 سے متعارف کرانے کا منصوبہ بیان کیا گیا ہے۔ اس سطح پر اے آئی تعلیم کا مطلب پیچیدہ پروگرامنگ کے بجائے عمر کے مطابق ڈیجیٹل آگاہی، مشین کے فیصلے کی حدود، محفوظ استعمال، رازداری اور یہ سمجھنا ہونا چاہیے کہ ٹیکنالوجی ہمیشہ درست نہیں ہوتی۔ اسکولوں کے درمیان بجلی، انٹرنیٹ اور آلات کے فرق کو نظر انداز کرنے سے یکساں نصاب غیر مساوی نتیجہ دے سکتا ہے۔

یہ اعلان تیاری کے مرحلے کی اطلاع ہے، حتمی صوبائی نصاب یا نافذ شدہ سرکاری حکم نہیں۔ اردو ہیڈ لائنز ڈیسک نے منصوبے کو اسی نسبت کے ساتھ رپورٹ کیا ہے۔ حتمی نصاب، کتابوں، اساتذہ کی تربیت، بجٹ، آزمائشی نتائج اور نفاذ کی تاریخ کی تصدیق متعلقہ پنجاب تعلیمی اداروں کے باضابطہ اجراء سے ہوگی۔