تل ابیب: اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات کے بعد سیاسی منظرنامہ غیر یقینی ہو گیا ہے کیونکہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے اہم حریف گادی آئزنکوٹ سے وابستہ سیاسی دھڑوں میں سے کسی کو بھی 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی واضح راہ نہیں ملی۔ جیو نیوز کی 28 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے حکومت بنانے کی صلاحیت کا دعویٰ کیا ہے، تاہم نتائج نے فوری اکثریت کے بجائے سیاسی تعطل کی صورت پیدا کی ہے۔
انتخابی نتائج میں عرب اسرائیلی جماعتوں کی کارکردگی اور ووٹر ٹرن آؤٹ نمایاں عنصر بن کر سامنے آیا۔ ان جماعتوں نے ایسے وقت میں نشستیں حاصل کیں جب نیتن یاہو مخالف ووٹ کی بڑی تعداد پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچی۔ اس اضافے نے پارلیمانی حساب کتاب کو مزید پیچیدہ بنایا اور بڑے یہودی سیاسی بلاکس کے لیے اکیلے یا محدود اتحادیوں کے ساتھ 61 نشستوں کی حد عبور کرنا مشکل کر دیا۔
اسرائیل میں حکومت سازی کا عمل صرف سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والے رہنما کے خودکار طور پر وزیر اعظم بننے سے مکمل نہیں ہوتا۔ پارلیمانی اکثریت کے لیے مختلف جماعتوں کی حمایت درکار ہوتی ہے اور صدر جماعتوں سے مشاورت کے بعد اس رکن کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں جس کے کامیاب ہونے کے امکانات زیادہ سمجھے جائیں۔ اسی لیے ابتدائی نتائج کے بعد اصل توجہ اتحادی مذاکرات اور چھوٹی جماعتوں کے فیصلوں پر منتقل ہو گئی ہے۔
نیتن یاہو اور آئزنکوٹ دونوں کے دعوے اس مرحلے پر سیاسی پوزیشننگ ہیں، حتمی حکومت سازی کا نتیجہ نہیں۔ کسی بھی اتحاد کو کنیسٹ میں اعتماد برقرار رکھنے کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔ انتخابی نتائج کی حتمی توثیق اور جماعتوں کے رسمی فیصلے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ کس امیدوار کے پاس قابل عمل اکثریت موجود ہے۔
یہ سیاسی تعطل ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل کو خطے میں جاری سلامتی بحران، ایران سے کشیدگی اور داخلی سیاسی تقسیم جیسے بڑے مسائل کا سامنا ہے۔ نئی حکومت کی تشکیل میں تاخیر یا کمزور اکثریت خارجہ اور داخلی پالیسی دونوں پر اثر ڈال سکتی ہے، لیکن اس مرحلے پر کسی مخصوص اتحاد یا وزیر اعظم کے انتخاب کو حتمی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

