یروشلم: اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات کی ووٹ گنتی میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی قیادت والا سیاسی بلاک سب سے آگے ہے، تاہم دستیاب نتائج کے مطابق اسے کنیسٹ میں حکومت سازی کے لیے درکار واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ ووٹوں کی گنتی جاری رہنے کے باعث نشستوں کی حتمی تقسیم میں تبدیلی ممکن ہے۔

ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو کے حامی اتحاد کو سب سے بڑا پارلیمانی گروپ دکھایا گیا ہے، جبکہ گادی آئزنکوٹ سے منسلک حزب اختلاف کے بلاک کو 48 نشستیں ملنے کی اطلاع ہے۔ ملک کی غیر وابستہ عرب جماعتوں کے حصے میں 18 نشستیں آنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اسرائیلی کنیسٹ میں مجموعی طور پر 120 نشستیں ہیں اور حکومت بنانے کے لیے عام طور پر کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔

اگر کسی بڑے بلاک کو اکیلے اکثریت نہ ملے تو حکومت سازی کا دارومدار چھوٹی جماعتوں، عرب نمائندوں یا دیگر غیر وابستہ ارکان کی حمایت پر پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے محض سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنا خودکار طور پر حکومت بنانے کی ضمانت نہیں ہوتا۔ صدر انتخابی نتائج کی توثیق کے بعد مختلف جماعتوں سے مشاورت کرکے اس رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دے سکتے ہیں جس کے بارے میں انہیں اکثریت حاصل کرنے کا زیادہ امکان نظر آئے۔

انتخابات ایسے وقت ہوئے ہیں جب اسرائیلی سیاست جنگ، معیشت، سکیورٹی اور حکومتی احتساب کے سوالات سے متاثر ہے۔ مختلف جماعتوں نے انتخابی مہم میں ان موضوعات پر متضاد پالیسی مؤقف پیش کیے۔ ابتدائی گنتی سیاسی توازن کا اشارہ دیتی ہے، لیکن حتمی نتیجہ مکمل ووٹ شماری اور بعد کی اتحادی مذاکرات پر منحصر ہوگا۔

اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ نیتن یاہو لازماً نئی حکومت تشکیل دیں گے یا حزب اختلاف انہیں روکنے میں کامیاب ہوگی۔ اگر کوئی فریق 61 ارکان کی قابل اعتماد حمایت اکٹھی نہ کر سکے تو مذاکرات طویل ہوسکتے ہیں۔ اس لیے موجودہ خبر کو انتخابی گنتی کی عبوری صورت حال کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ حکومت سازی کے حتمی فیصلے کے طور پر۔