اُردا، اسپین: وسطی اسپین میں دو تیز رفتار ٹرینوں کے تصادم میں کم از کم 68 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ امدادی کارکن ملبے میں مزید متاثرین کی تلاش کر رہے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق حادثہ میڈرڈ کے جنوب میں اُردا کے قریب پیش آیا اور یہ اسپین میں رواں سال کا دوسرا بڑا مہلک ریل حادثہ ہے۔

ابتدائی سرکاری معلومات کے مطابق ایک رینفے ٹرین کو سفر جاری رکھنے کی اجازت دی گئی حالانکہ آگے پٹری پر ایک دوسری ٹرین موجود ہونے کی وجہ سے فعال سرخ سگنل تھا۔ اسپین کے وزیر ٹرانسپورٹ نے اس صورت حال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کے مکمل اسباب جاننے کے لیے تکنیکی اور عملیاتی ریکارڈ کی جانچ کی جا رہی ہے۔ اس مرحلے پر کسی فرد یا ادارے کی حتمی قانونی ذمہ داری طے نہیں کی گئی۔

تصادم کے بعد متعدد بوگیاں متاثر ہوئیں اور ہنگامی ٹیموں، فائر فائٹرز، طبی عملے اور پولیس نے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ حکام نے متاثرہ ریلوے کوریڈور پر ٹریفک محدود یا معطل کی تاکہ امدادی کارروائیاں اور جائے حادثہ کی تفتیش محفوظ طریقے سے جاری رہ سکے۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد دن کے دوران بڑھتی رہی۔

وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے حادثے پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین اور ان کے خاندانوں سے یکجہتی کا اعلان کیا۔ ان کی سرکاری مصروفیات میں تبدیلی کی گئی، جبکہ حزب اختلاف کی پیپلز پارٹی نے بھی انتخابی مہم سے متعلق سرگرمیاں منسوخ کر دیں۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی حادثے پر تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

یہ حادثہ جنوری میں جنوبی اسپین کے آدموز کے قریب ہونے والے ایک اور بڑے تیز رفتار ریل حادثے کے چند ماہ بعد پیش آیا، جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تازہ واقعے نے اسپین کے ہائی اسپیڈ ریل نیٹ ورک کی آپریشنل سیفٹی، سگنلنگ اور ٹریفک کنٹرول کے طریقہ کار پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

تحقیقات میں سگنلنگ ڈیٹا، کنٹرول روم کی ہدایات، ڈرائیوروں کے رابطے، ٹرینوں کی رفتار اور پٹری کی حالت سمیت متعدد عوامل کا جائزہ لیے جانے کی توقع ہے۔ حکام کی جانب سے ابتدائی معلومات سامنے آئی ہیں، تاہم کسی ایک وجہ کو حتمی قرار دینا ابھی قبل از وقت ہے۔

ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد ریسکیو کارروائی کے دوران تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اس رپورٹ میں 68 ہلاکتوں کا عدد رائٹرز کی تازہ دستیاب رپورٹ پر مبنی ہے۔ حتمی تعداد اور حادثے کی ذمہ داری اسپین کے متعلقہ حکام کی تحقیقات اور سرکاری اپ ڈیٹس کے بعد واضح ہوگی۔