یروشلم: اسرائیل کے حالیہ پارلیمانی انتخابات کے جزوی نتائج میں کسی بڑے سیاسی کیمپ کو واضح اکثریت نہ ملنے کے بعد صدر اسحاق ہرزوگ کا آئندہ حکومت کی تشکیل میں فیصلہ کن آئینی کردار سامنے آ گیا ہے۔ اے ایف پی کی ڈان میں شائع رپورٹ کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے حریف گاڈی آئزنکوٹ کے کیمپوں میں سے کوئی بھی ابتدائی نتائج میں پارلیمان کی اکثریت حاصل نہیں کر سکا۔

اسرائیلی طریقہ کار کے تحت سرکاری نتائج کے اعلان کے بعد صدر سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے مشاورت کرتے ہیں اور پھر اس رکن کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں جس کے بارے میں ان کا اندازہ ہو کہ وہ کامیابی سے اکثریتی اتحاد قائم کر سکتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ مینڈیٹ لازماً سب سے زیادہ نشستیں رکھنے والی جماعت کے سربراہ ہی کو دیا جائے۔ اس مرحلے میں مختلف جماعتوں کی سفارشات اور ممکنہ اتحادی امتزاج اہم ہوں گے۔

ہرزوگ نے ووٹوں کی گنتی کے دوران کہا کہ انہیں اگلے ہفتے سرکاری نتائج موصول ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد سیاسی مشاورت شروع ہوگی۔ انہوں نے ایک اور انتخاب سے بچنے کی خواہش ظاہر کی اور سیاسی نمائندوں سے کھلے ذہن کے ساتھ بات چیت کی اپیل کی۔ اسرائیل میں اگر کوئی امیدوار قابل عمل اتحاد قائم نہ کر سکے تو دوبارہ انتخابات کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

صدر نے انتخابات سے قبل یہ بھی کہا تھا کہ بیرونی دباؤ ان کے آئینی فیصلے پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ مداخلت سے متعلق سوال پر ہرزوگ نے اسرائیلی جمہوری اور آئینی عمل کو اپنی بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے اس امکان کو بھی رد نہیں کیا کہ اگر سیاسی تعطل برقرار رہا تو نیتن یاہو اور آئزنکوٹ کے درمیان کسی وسیع تر اتحاد یا قومی وحدت کے انتظام کی حمایت کی جا سکتی ہے۔

ہرزوگ 2021 سے اسرائیل کے صدر ہیں۔ اسرائیلی صدارت عمومی طور پر رسمی نوعیت کا منصب سمجھی جاتی ہے، لیکن غیر واضح انتخابی نتیجے کی صورت میں حکومت سازی کا مینڈیٹ دینے کا اختیار اس عہدے کو غیر معمولی اہمیت دے دیتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اگلا وزیراعظم کون ہوگا، کیونکہ دستیاب رپورٹ جزوی نتائج پر مبنی ہے اور حتمی سرکاری نتائج اور جماعتی سفارشات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔

انتخابات کو نیتن یاہو کی طویل سیاسی حکمرانی کے بارے میں ایک اہم عوامی امتحان کے طور پر دیکھا گیا۔ تاہم کسی کیمپ کی فوری اکثریت نہ بننے کے باعث اگلا مرحلہ پارلیمانی نشستوں کی حتمی تقسیم، چھوٹی جماعتوں کی ترجیحات اور صدر کے ساتھ رسمی مشاورت پر منحصر ہوگا۔ اس لیے موجودہ پیش رفت ایک حتمی حکومت کے قیام کے بجائے حکومت سازی کے آئینی عمل کے آغاز کی طرف اشارہ کرتی ہے۔