انقرہ: پاکستان، ترکی اور شام نے دفاعی تعاون کو وسعت دینے کے لیے مشترکہ فوجی مشقوں کے انعقاد پر اتفاق کیا ہے۔ ترک وزارت دفاع سے منسوب معلومات کے مطابق تینوں ممالک کے درمیان تربیت، تجربات کے تبادلے اور مسلح افواج کی عملی صلاحیتوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوئی ہے۔ یہ پیش رفت خطے میں دفاعی روابط کے ایک نئے سہ فریقی پہلو کی نشاندہی کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ مشقوں کا مقصد تینوں ممالک کی افواج کے درمیان باہمی رابطہ، تربیتی معیار اور آپریشنل ہم آہنگی بہتر بنانا ہے۔ مشترکہ مشقیں دفاعی تعاون کے ان طریقوں میں شامل ہیں جن کے ذریعے شریک ممالک مختلف حالات میں کمانڈ، مواصلات، لاجسٹکس اور فیلڈ آپریشنز کے تجربات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ دستیاب معلومات میں مشقوں کی حتمی تاریخ، مقام اور حجم کی تمام تفصیلات ابھی واضح نہیں کی گئیں۔

پاکستان اور ترکی کے درمیان پہلے ہی دیرینہ دفاعی تعلقات موجود ہیں۔ دونوں ممالک کی افواج باقاعدگی سے مشترکہ تربیتی سرگرمیوں، فوجی وفود کے تبادلوں اور دفاعی صنعت کے منصوبوں میں تعاون کرتی رہی ہیں۔ بحری، فضائی اور بری افواج کی سطح پر بھی مختلف مشقوں اور تربیتی پروگراموں کا انعقاد ماضی میں ہو چکا ہے۔ شام کی شمولیت سے اس تعاون میں ایک نیا علاقائی عنصر شامل ہوگا۔

شام حالیہ سیاسی اور سکیورٹی تبدیلیوں کے بعد اپنے ریاستی اداروں اور دفاعی ڈھانچے کی تنظیم نو کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ترکی شام کے ساتھ سرحد رکھنے والا اہم علاقائی ملک ہے اور دمشق کے نئے انتظامی و سکیورٹی ڈھانچے سے متعلق معاملات میں اس کا کردار نمایاں رہا ہے۔ پاکستان نے بھی شام کے ساتھ سفارتی روابط برقرار رکھے ہیں اور علاقائی استحکام کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

مشترکہ فوجی مشقوں کا اعلان کسی مشترکہ جنگی کارروائی یا مستقل فوجی اتحاد کے قیام کے مترادف نہیں ہے۔ ایسی مشقوں کا بنیادی مقصد تربیت اور ادارہ جاتی تعاون ہوتا ہے، اور ان کی عملی نوعیت کا تعین طے شدہ منظرناموں، شریک دستوں اور میزبان ملک کی منصوبہ بندی سے ہوتا ہے۔ اس لیے مجوزہ سرگرمی کو اعلان کردہ دفاعی تربیتی تعاون کے دائرے میں ہی دیکھا جانا چاہیے۔

تینوں ممالک کی جانب سے اگلے مراحل میں مشقوں کے شیڈول، شرکت کرنے والے یونٹس اور تربیتی موضوعات کی تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔ جب تک باضابطہ پروگرام جاری نہیں ہوتا، دستیاب معلومات دفاعی تعاون بڑھانے کے اصولی اتفاق کی تصدیق کرتی ہیں، نہ کہ کسی مخصوص مشق کے مکمل آپریشنل منصوبے کی۔