اسلام آباد: پاکستان نے اپنی ون چائنا پالیسی کے تحت تائیوان کی فضائی کمپنیوں کو ملکی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا ہے، یہ بات بدھ کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہی گئی۔ انادولو ایجنسی نے بلومبرگ کے حوالے سے بتایا کہ اس اقدام کے بعد تائیوان کی بڑی فضائی کمپنیوں نے پاکستان کے اوپر سے گزرنے والی پروازوں کے راستے تبدیل کرنا شروع کر دیے ہیں۔

رپورٹ میں وزیر دفاع خواجہ آصف کے حوالے سے کہا گیا کہ پاکستان کی ایوی ایشن پالیسی ون چائنا اصول کی پیروی کرتی ہے اور فضائی حدود کے معاملے میں عوامی جمہوریہ چین سے تعلق رکھنے والی ایئرلائنز کو چینی کیریئرز کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ انادولو کے مطابق بلومبرگ نے اس اقدام کو اپنی نوعیت کا پہلا ایسا فیصلہ قرار دیا جس میں کسی ملک نے تائیوانی ایئرلائنز کے اوور فلائٹ پر پابندی لگائی ہے۔

فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ چائنا ایئرلائنز اور ایوا ایئرویز نے گزشتہ ہفتے کے اختتام سے پاکستان کے اوپر سے گزرنا بند کر دیا اور متبادل راستے اختیار کیے۔ دونوں کمپنیوں نے بلومبرگ کو اس معاملے پر تبصرہ نہیں دیا، جبکہ تائیوان کی سول ایوی ایشن انتظامیہ نے بھی رپورٹ میں بیان کردہ روٹ تبدیلی پر براہ راست جواب نہیں دیا۔ اس لیے ایئرلائنز کے آپریشنل فیصلوں کی تفصیلات انہی رپورٹ شدہ معلومات تک محدود ہیں۔

پاکستان طویل عرصے سے ون چائنا پالیسی کی حمایت کرتا آیا ہے اور تائیوان کے ساتھ سرکاری سفارتی تعلقات نہیں رکھتا۔ اسلام آباد اور بیجنگ کے تعلقات میں چین پاکستان اقتصادی راہداری، دفاعی تعاون، تجارت اور سرمایہ کاری اہم ستون ہیں۔ تازہ فضائی اقدام اسی خارجہ پالیسی کے تناظر میں سامنے آیا ہے، تاہم اس کے تجارتی پروازوں کے وقت، ایندھن کی لاگت اور متبادل فضائی راستوں پر عملی اثرات ہر روٹ کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چین خود تائیوانی ایئرلائنز کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کا اقدام نسبتاً زیادہ سخت قرار دیا گیا۔ بیجنگ تائیوان کو چین کا حصہ سمجھتا ہے، جبکہ تائیوان میں الگ حکومت قائم ہے۔ اس سیاسی تنازع کے باعث بین الاقوامی سفارت کاری اور ہوابازی میں نام، نمائندگی اور رسائی کے معاملات حساس رہتے ہیں۔

پاکستانی حکام کی جانب سے پابندی کی مکمل تکنیکی نوٹیفکیشن، اس کے دائرۂ کار یا کسی استثنا کی تفصیلات اس رپورٹ میں فراہم نہیں کی گئیں۔ لہٰذا یہ خبر دستیاب رپورٹ اور وزیر دفاع سے منسوب بیان کی بنیاد پر پیش کی جا رہی ہے، اور مزید سرکاری ایوی ایشن دستاویزات سامنے آنے پر عملی شرائط زیادہ واضح ہو سکتی ہیں۔