ہانگ کانگ: وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے ہانگ کانگ کی قیادت سے کیتھے پیسفک کی پاکستان کے لیے پروازوں کی بحالی کے امکانات کا جائزہ لینے کی درخواست کی ہے، جس کا مقصد دونوں منڈیوں کے درمیان کاروباری، سیاحتی اور عوامی روابط کو بہتر بنانا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وزیر تجارت نے یہ بات ہانگ کانگ خصوصی انتظامی خطے کے چیف ایگزیکٹو جان لی کا چیو سے ملاقات میں کہی۔

ملاقات میں پاکستان اور ہانگ کانگ کے درمیان تجارت، اقتصادی تعاون اور عوامی سطح کے روابط مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ جام کمال خان نے مؤقف اختیار کیا کہ بہتر فضائی رابطہ کاروباری سفر، سیاحت اور تجارتی تبادلوں میں سہولت دے سکتا ہے۔ کیتھے پیسفک کی پروازوں کی بحالی اس مرحلے پر پاکستانی وزیر کی جانب سے پیش کی گئی درخواست ہے؛ دستیاب رپورٹ میں ایئرلائن کی جانب سے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کے کسی حتمی فیصلے یا تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو نے بیلٹ اینڈ روڈ سمٹ میں پاکستانی وزیر کے خطاب کو سراہا، بالخصوص بین الاقوامی تعاون، رابطہ کاری اور مشترکہ اقتصادی خوشحالی سے متعلق نکات کو۔ ملاقات میں علاقائی استحکام کو عالمی اقتصادی سرگرمیوں کے لیے اہم قرار دیا گیا اور دونوں جانب سے اقتصادی شراکت داری کو وسعت دینے کی خواہش ظاہر کی گئی۔

جام کمال خان نے چین کے ساتھ پاکستان کے تاریخی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے ہانگ کانگ کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ہانگ کانگ میں مقیم پاکستانی برادری اور ترسیلاتِ زر کے ذریعے اس کے کردار کا بھی ذکر کیا۔ وزیر نے خدمات کی تجارت، ہوا بازی، مالیاتی شعبے اور کاروبار سے کاروبار روابط میں مزید سرگرمی کی ضرورت بیان کی۔

وزیر تجارت نے جان لی کا چیو کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔ ملاقات کا مجموعی محور فضائی رابطے کو وسیع تر تجارتی ایجنڈے سے جوڑنا تھا، تاکہ دونوں اطراف کی کمپنیوں اور تاجروں کے لیے سفر اور براہ راست روابط آسان ہو سکیں۔ تاہم کسی نئے فضائی معاہدے، روٹ، پروازوں کی تعداد یا آپریشن شروع ہونے کی تاریخ کی تصدیق نہیں کی گئی۔

پاکستان کی جانب سے یہ سفارتی و تجارتی رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب حکومت ایشیائی منڈیوں کے ساتھ برآمدات، خدمات اور سرمایہ کاری کے روابط بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ کیتھے پیسفک کی ممکنہ واپسی سے متعلق اگلی عملی پیش رفت ایئرلائن، ہوا بازی حکام اور متعلقہ حکومتی اداروں کے فیصلوں سے واضح ہوگی۔