لاہور: جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کا مطالبہ دہراتے ہوئے فیصل آباد اور راولپنڈی میں عوامی جلسوں کا اعلان کیا ہے۔ ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے لاہور میں جاری دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد میں 28 اگست اور راولپنڈی میں 30 اگست کو جلسہ ہوگا، جبکہ مختلف شہروں میں دھرنے، اجتماعات اور احتجاجی کیمپ بھی جاری رکھے جائیں گے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پشاور اور کراچی میں احتجاجی دھرنے ہو رہے ہیں اور کوئٹہ میں بھی دھرنا شروع کرنے کی تیاری ہے۔ ان کے بقول احتجاج کا مقصد مہنگے ایندھن، بجلی، گیس، تعلیم، صحت اور زرعی مسائل پر عوامی آواز اٹھانا ہے۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ وہ جماعت اسلامی کے ساتھ بات چیت کرے اور پیٹرولیم لیوی ختم کرکے شہریوں کو ریلیف دے۔

خطاب میں انہوں نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمت اور پاکستان میں پیٹرول کی قیمت کے درمیان تعلق پر سوال اٹھایا۔ یہ ان کا سیاسی موقف اور دعویٰ ہے؛ رپورٹ میں ان کے بیان کی آزاد معاشی جانچ شامل نہیں۔ اسی طرح سرکاری اسکولوں، صنعتوں کے لیے گیس نرخوں، گندم اور چینی کے معاملات سے متعلق ان کے الزامات بھی مقرر کی تقریر کے طور پر رپورٹ ہوئے ہیں، کسی عدالتی یا آڈٹ نتیجے کے طور پر نہیں۔

جماعت اسلامی کے امیر نے کہا کہ ان کی جماعت غریب اور متوسط طبقے کے مسائل کو سامنے رکھ رہی ہے اور احتجاج کو مزید شہروں تک پھیلائے گی۔ انہوں نے حکمرانوں، آئی ایم ایف سے منسلک پالیسیوں اور بعض کاروباری مفادات پر تنقید بھی کی۔ رپورٹ میں حکومت یا متعلقہ اداروں کا تفصیلی جواب شامل نہیں، اس لیے ان نکات کو یک طرفہ سیاسی موقف کے طور پر ہی سمجھا جانا چاہیے۔

اعلان کے مطابق اگلا قابلِ تصدیق مرحلہ 28 اور 30 اگست کے جلسے اور دیگر شہروں میں احتجاجی سرگرمیوں کا تسلسل ہوگا۔ جلسوں کے مقامات، اجازت ناموں، سکیورٹی انتظامات یا حکومت سے کسی باقاعدہ مذاکراتی شیڈول کی تفصیل خبر میں نہیں دی گئی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک