کراچی: اینٹی وائلنٹ کرائم سیل نے فیصل آباد میں کارروائی کے بعد اس ٹھیکیدار کو بازیاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس کے مبینہ اغوا اور تین کروڑ روپے تاوان طلب کیے جانے کا مقدمہ کراچی میں درج تھا۔ ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق پولیس اب واقعے کو خود ساختہ اغوا قرار دے رہی ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔

اے وی سی سی کے ترجمان کے مطابق عمران رفیق نامی شخص 18 اگست کو کام کے لیے گھر سے نکلا مگر واپس نہیں آیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 20 اگست کو اس نے اپنی اہلیہ کو واٹس ایپ کال کرکے بتایا کہ نامعلوم افراد نے اسے اغوا کیا، اس سے 60 لاکھ روپے لے لیے اور رہائی کے عوض تین کروڑ روپے تاوان مانگ رہے ہیں۔

اس اطلاع پر شاہ فیصل کالونی تھانے میں اغوا برائے تاوان اور انسداد دہشت گردی قانون کی دفعہ سات اے ٹی اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ بعد میں تفتیش اے وی سی سی کو منتقل کی گئی۔ پولیس کے مطابق تکنیکی ذرائع اور انسانی معلومات پر کام کرتے ہوئے پنجاب کے ضلع فیصل آباد میں چھاپہ مارا گیا اور عمران رفیق کو وہاں سے بازیاب کرالیا گیا۔

اے وی سی سی نے دعویٰ کیا کہ بازیابی کے بعد عمران رفیق نے پولیس کو بتایا کہ اسے کسی نے اغوا نہیں کیا تھا۔ پولیس کے بیان کے مطابق وہ ٹھیکیداری کرتا ہے، مختلف کاموں کے لیے وصول کی گئی رقم خرچ ہوگئی تھی اور اسی وجہ سے اس نے اپنے اغوا کا ڈرامہ رچایا۔ یہ مبینہ اعتراف پولیس کے بیان میں نقل ہوا ہے؛ رپورٹ میں کسی مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ شدہ بیان یا عدالتی فیصلے کا ذکر نہیں۔

مقدمہ درج ہونا، کسی شخص کی بازیابی اور پولیس کا تفتیشی دعویٰ الگ قانونی مراحل ہیں۔ خود ساختہ اغوا، رقم خرچ ہونے اور تاوان کی کال سے متعلق ذمہ داری ابھی عدالت سے ثابت نہیں ہوئی۔ پولیس نے کہا ہے کہ مزید تفتیش جاری ہے، جس میں رابطوں، مالی لین دین اور مقدمے میں پہلے دی گئی معلومات کا جائزہ حتمی قانونی صورت واضح کرے گا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک