ملک بھر میں 12 ربیع الاول کے موقع پر جشن میلاد النبی ﷺ مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق بڑے شہروں سے قصبوں اور دیہات تک مساجد، بازار، گلیاں اور شاہراہیں روشنیوں اور آرائش سے سجائی گئی ہیں، جبکہ مختلف مقامات پر درود و سلام، نعت خوانی، میلاد کی محافل اور مذہبی اجتماعات کا اہتمام کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ لاہور میں دن کا آغاز نماز فجر کے بعد توپوں کی سلامی سے ہوا۔ محفوظ شہید گریژن میں پاک فوج کے دستے نے 21 توپوں کی سلامی پیش کی۔ ملک کے مختلف حصوں میں سرکاری اور نجی عمارتوں پر چراغاں کیا گیا ہے اور کئی مقامات پر آرائشی دروازے اور محرابیں نصب کی گئی ہیں۔ مساجد میں بھی خصوصی محافل جاری ہیں، جہاں شرکا درود و سلام اور نعت خوانی کے ذریعے عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں۔

کراچی میں مرکزی جلوسوں کے باعث ٹریفک پولیس نے خصوصی انتظام جاری کیا ہے۔ ایکسپریس اردو کے مطابق جلوسوں کے دوران ایم اے جناح روڈ عام ٹریفک کے لیے بند رہے گا اور صرف خصوصی پاس والی گاڑیوں کو داخلے کی اجازت ہوگی۔ ٹریفک پولیس نے شہریوں سے کہا ہے کہ ممکنہ زحمت سے بچنے کے لیے متبادل راستے اختیار کریں، جبکہ ڈائیورژن کے مقامات پر اہلکار رہنمائی کے لیے موجود ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق ایک جلوس شہید مسجد کھارادر سے مولانا یعقوب عطاری کی قیادت میں دوپہر تقریباً ڈھائی بجے نکلے گا، نیو میمن مسجد سے گزرے گا اور عصر کے وقت گلزار حبیب مسجد پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔ دوسرا مرکزی جلوس مولانا شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں نیو میمن مسجد سے سہ پہر تین بجے روانہ ہوگا اور شام چھ بجے نشتر پارک پہنچے گا، جہاں بعد ازاں میلاد النبی ﷺ کانفرنس منعقد کی جائے گی۔

ایک اور جلوس نیو میمن مسجد بولٹن مارکیٹ سے مولانا اکبر درس کی قیادت میں دوپہر ڈھائی بجے نکالے جانے اور عصر کے وقت آرام باغ مسجد پہنچنے کا پروگرام بھی رپورٹ کیا گیا ہے۔ کراچی ٹریفک پولیس کے ترجمان کے مطابق 12 ربیع الاول کے روز شہر میں ہیوی اور کمرشل گاڑیوں کی آمدورفت پر پابندی ہوگی۔ شہریوں کے لیے اہم عملی اطلاع یہی ہے کہ مرکزی راستوں پر جانے سے پہلے ٹریفک پلان اور متبادل راستوں کو مدنظر رکھیں۔

کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، حیدرآباد، راولپنڈی، فیصل آباد اور سکھر سمیت مختلف شہروں میں جلوس، محافل اور نیاز و لنگر کی تقسیم کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اجتماعات اور جلوسوں کے لیے سیکیورٹی اقدامات کیے ہیں۔ یہ خبر ملک گیر تقریبات کی موجودہ صورت حال اور کراچی کے جاری ٹریفک انتظامات بیان کرتی ہے؛ پروگرام یا راستے میں مقامی سطح پر تبدیلی کی صورت میں شہری متعلقہ انتظامیہ کی تازہ ہدایات دیکھیں۔