کراچی کے مختلف علاقوں میں پولیس اور مبینہ ڈاکوؤں کے درمیان تین الگ واقعات کے بعد چھ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق گرفتار افراد میں تین زخمی بھی شامل ہیں، جنہیں طبی امداد کے لیے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس نے ان واقعات کو مقابلے قرار دیا ہے، تاہم گرفتار افراد سے متعلق الزامات اور واقعات کی مکمل قانونی حیثیت مزید تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی طے ہوگی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ شرافی گوٹھ پولیس کا ملیر ندی کے قریب ایک مبینہ مقابلہ ہوا۔ اس کارروائی میں ایک شخص زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔ چھیپا حکام کے حوالے سے زخمی کی شناخت محمود کے نام سے بتائی گئی اور کہا گیا کہ اسے علاج کے لیے جناح اسپتال پہنچایا گیا۔ اس واقعے کے بارے میں رپورٹ میں کسی ہلاکت کا ذکر نہیں کیا گیا۔
دوسرا واقعہ زمان ٹاؤن پولیس کی حدود میں کورنگی کراسنگ کے قریب سی بی ایم کالج کے مقام پر پیش آیا۔ رپورٹ کے مطابق اس مبینہ مقابلے میں دو افراد گرفتار ہوئے۔ رمضان نامی زخمی شخص کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ جنید نامی دوسرے زیر حراست شخص کو تھانے لے جایا گیا۔ کراچی پولیس کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ان افراد کے قبضے سے ایک پستول، موبائل فون، نقد رقم اور ایک موٹرسائیکل برآمد ہوئی۔ یہ برآمدگی پولیس کا بیان ہے اور اس پر قانونی جانچ ابھی جاری ہے۔
تیسری کارروائی سکھن پولیس نے بھینس کالونی روڈ نمبر 12 پر کی۔ ایکسپریس اردو کے مطابق وہاں بھی پولیس نے واقعے کو مبینہ مقابلہ قرار دیا اور تین افراد کو گرفتار کیا۔ واجد نامی زخمی شخص کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ زوار اور زاہد نامی دو افراد کو تھانے لے جایا گیا۔ پولیس نے اس کارروائی میں اسلحہ، موبائل فون، نقد رقم اور ایک موٹرسائیکل برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
تینوں واقعات میں پولیس کے مطابق مجموعی طور پر چھ افراد گرفتار ہوئے اور تین زخمیوں کو طبی امداد دی گئی۔ رپورٹ میں زخمیوں کی طبی حالت کی مزید تفصیل یا کسی پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کا ذکر موجود نہیں۔ اسی طرح برآمد شدہ رقم، موبائل فونز یا موٹرسائیکلوں کی تعداد اور ملکیت کے بارے میں بھی اضافی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے ان نکات سے متعلق کوئی اندازہ شامل نہیں کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے اور مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ کسی بھی زیر حراست شخص کے خلاف پولیس کا الزام بذات خود عدالتی جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہوتا۔ آئندہ تفتیش، فرانزک جانچ، برآمدگیوں کی تصدیق اور متعلقہ عدالت میں پیش کیا جانے والا مواد یہ واضح کرے گا کہ ہر واقعے میں کیا ہوا اور ہر گرفتار شخص کے خلاف کون سا مقدمہ بنتا ہے۔




