اسلام آباد: جاپان نے سندھ میں سیلابی خطرات کم کرنے اور دریائے سندھ کے کنارے حفاظتی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کو 2.58 ارب جاپانی ین، یعنی تقریباً 16.4 ملین امریکی ڈالر، کی گرانٹ فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ مالی معاونت "پروجیکٹ فار فلڈ پروٹیکشن اینڈ ڈائیک امپروومنٹ" کے تحت استعمال ہوگی، جس کا مقصد سیلاب سے زیادہ متاثر ہونے والی آبادیوں اور مقامی روزگار کو مستقبل کے دریائی سیلابوں سے بہتر تحفظ دینا ہے۔

معاہدے کو وزارتِ اقتصادی امور میں باضابطہ شکل دی گئی، جہاں پاکستان میں جاپان کے سفیر اکاماتسو شوئیچی اور وزارتِ اقتصادی امور کے سیکریٹری محمد ہمایوں کریم کدوائی نے ایکسچینج آف نوٹس پر دستخط کیے۔ اس کے ساتھ جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی، جائیکا، کی سطح پر متعلقہ گرانٹ انتظامات بھی مکمل کیے گئے۔

منصوبے کے تحت خاص طور پر لاڑکانہ میں دریائے سندھ کے دائیں کنارے واقع اولڈ آباد بند کی بہتری اور مضبوطی پر توجہ دی جائے گی۔ یہ علاقہ سیلابی دباؤ کے اعتبار سے حساس سمجھا جاتا ہے، اس لیے بند کی پائیداری میں اضافہ مقامی آبادی، زرعی زمینوں اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستانی حکام نے جاپان کی ترقیاتی معاونت کو سراہتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید بارشوں اور دریا کے بہاؤ میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے خطرات بڑھ رہے ہیں، اس لیے سیلابی تحفظ کے منصوبوں میں طویل مدتی سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ حکام نے جائیکا کی تکنیکی مہارت اور پاکستان کے مختلف شعبوں میں اس کے جاری تعاون کو بھی اہم قرار دیا۔

جاپانی سفیر نے دونوں ممالک کے درمیان ترقیاتی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ جائیکا کے نمائندے نے وفاقی اور صوبائی اداروں کے تعاون کو سراہا جس کے نتیجے میں منصوبہ معاہدے کے مرحلے تک پہنچا۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں میں حفاظتی استعداد بہتر ہونے کی توقع ہے، تاہم اس کی عملی افادیت تعمیراتی معیار، بروقت تکمیل اور مقامی سطح پر مناسب دیکھ بھال پر منحصر ہوگی۔

یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے جڑے شدید موسم، اچانک سیلاب اور دریائی کٹاؤ کے بڑھتے خطرات سے نمٹنے کے لیے بیرونی مالی اور تکنیکی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔