گلگت: گلگت بلتستان کے غذر اور ہنزہ اضلاع میں شدید بارش اور کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے معمولاتِ زندگی متاثر کر دیے، کئی مقامات پر سڑکیں بند ہوئیں، زرعی زمین اور باغات کو نقصان پہنچا اور بجلی کی ترسیل میں خلل آیا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ہفتے کے روز غذر میں اچانک آنے والے سیلاب نے گھروں اور فصلوں کو متاثر کیا، جبکہ قراقرم ہائی وے کے کچھ حصے لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند کرنا پڑے۔
غذر کے نوبہار گاؤں میں سیلابی ریلے نے گشگش جماعت خانہ کو نقصان پہنچایا اور فصلوں، پھل دار درختوں اور زرعی اراضی کو بھی متاثر کیا۔ رپورٹ کے مطابق امیت سے برجانگل جانے والی سڑک مختلف مقامات پر بند ہوئی اور راستے کے ساتھ بجلی کی ترسیلی لائنوں کو بھی نقصان پہنچا، جس سے بعض آبادیوں کا دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ متاثر ہوا۔ مقامی رہائشیوں نے انتظامیہ سے سڑکیں فوری کھولنے اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کا مطالبہ کیا۔
گلگت بلتستان پولیس کے ترجمان کے مطابق سوست سے خنجراب ٹاپ تک قراقرم ہائی وے لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مکمل طور پر بند رہی اور متعلقہ اداروں نے بحالی کا کام شروع کیا۔ سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت دی گئی۔ ہنزہ میں مرتضیٰ آباد اور حسن آباد کے درمیان قراقرم ہائی وے کا ایک حصہ لینڈ سلائیڈنگ کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا، تاہم مختلف مقامات پر موسمی حالات کے باعث سفر میں رکاوٹ برقرار رہی۔
مسلسل بارش کے ساتھ علاقے میں درجہ حرارت بھی کم ہوا اور ضلع دیامر کی انتظامیہ کے مطابق بابوسر ٹاپ پر سیزن کی پہلی برفباری ریکارڈ کی گئی۔ برفباری کے باوجود بابوسر روڈ پر ٹریفک جاری رہی۔ مقامی افراد نے حالیہ برسوں میں بارش، گرج چمک اور اچانک سیلاب کے انداز میں تبدیلی کی نشاندہی کی ہے۔
ڈان نے گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے حوالے سے بتایا کہ جون سے اگست 2026 کے دوران خطے میں کلاؤڈ برسٹ اور گلیشیئر پگھلنے سے 120 سیلابی واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ ان واقعات میں درجنوں مکانات، زرعی زمین، باغات، درخت، آبپاشی کی نہریں، سڑکیں اور بجلی کا نظام متاثر ہوا، جبکہ کئی علاقوں کے رہائشی دنوں تک پھنسے رہے۔
ماہرین کے مطابق گلگت بلتستان کا نازک پہاڑی ماحولیاتی نظام تیز رفتار موسمی تبدیلی، گلیشیئر پگھلاؤ، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ اور غیر معمولی درجہ حرارت کے خطرات کے سامنے زیادہ حساس ہے۔ خطے میں ہزاروں گلیشیئر اور سینکڑوں گلیشیائی جھیلیں موجود ہونے کے باعث شدید موسمی واقعات کا مقامی آبادی، بنیادی ڈھانچے، سیاحت اور زراعت پر اثر نسبتاً زیادہ ہو سکتا ہے۔
اس واقعے میں فوری طور پر بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی، تاہم مادی نقصان اور سڑکوں کی بندش نے متعدد علاقوں میں رسائی متاثر کی۔ بحالی، نقصان کے حتمی تخمینے اور آئندہ موسمی خطرات سے متعلق مزید تفصیلات مقامی انتظامیہ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کی آئندہ اپ ڈیٹس سے واضح ہوں گی۔




