گلگت: گلگت بلتستان کے غذر اور ہنزہ اضلاع میں شدید بارش اور کلاؤڈ برسٹ کے بعد اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے معمولات زندگی متاثر کیے، متعدد سڑکیں بند ہوئیں اور زرعی زمین، فصلوں، باغات، مکانات اور بجلی کی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ مقامی حکام اور پولیس کے مطابق مختلف مقامات پر بحالی اور راستے کھولنے کی کارروائیاں جاری رہیں۔
غذر کے مختلف علاقوں میں رات کے وقت آنے والے تیز ریلوں نے نشیبی آبادیوں اور کھیتوں کو متاثر کیا۔ نوبہار گاؤں میں سیلابی پانی نے فصلوں، پھلدار درختوں اور زرعی اراضی کو نقصان پہنچایا جبکہ ایک جماعت خانہ بھی متاثر ہوا۔ امیت سے برجنگل جانے والی سڑک مختلف مقامات پر بند ہوئی اور بجلی کی ترسیلی لائنوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے باعث بعض آبادیوں کا زمینی رابطہ محدود ہوگیا۔
متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں نے مقامی انتظامیہ سے سڑکوں کی فوری بحالی اور نقصانات کے ازالے کے لیے امدادی اقدامات کا مطالبہ کیا۔ دشوار گزار جغرافیہ کے باعث سڑک کی بندش نہ صرف روزمرہ سفر بلکہ خوراک، ادویات اور ہنگامی خدمات کی رسائی کو بھی متاثر کرسکتی ہے، اس لیے متعلقہ اداروں نے رابطہ بحال کرنے کو ترجیحی کام قرار دیا۔
ہنزہ میں قراقرم ہائی وے کا بعض حصہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث متاثر ہوا۔ گلگت بلتستان پولیس کے مطابق سوسٹ سے خنجراب ٹاپ تک شاہراہ کچھ وقت کے لیے مکمل طور پر بند رہی اور متعلقہ اداروں نے ملبہ ہٹانے اور راستہ کھولنے کا کام شروع کیا۔ سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ بعد میں مرتضیٰ آباد اور حسن آباد کے درمیان شاہراہ کا ایک متاثرہ حصہ ٹریفک کے لیے بحال کیے جانے کی اطلاع بھی دی گئی۔
ادھر دیامر میں بابوسر ٹاپ پر سیزن کی پہلی برفباری ریکارڈ کی گئی، تاہم دستیاب اطلاعات کے مطابق بابوسر روڈ پر گاڑیوں کی آمدورفت جاری رہی۔ اچانک بارش، سیلابی ریلوں، لینڈ سلائیڈنگ اور بلند مقامات پر ابتدائی برفباری کا ایک ہی موسمی دور میں سامنے آنا خطے میں بدلتے ہوئے موسمی خطرات کی پیچیدگی کو نمایاں کرتا ہے۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق جون سے اگست 2026 کے دوران خطے میں کلاؤڈ برسٹ اور گلیشیئر پگھلنے سے جڑے 120 سیلابی واقعات رپورٹ ہوئے۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ پہاڑی علاقوں میں مختصر دورانیے کی انتہائی بارش اور تیز بہاؤ مقامی آبادی، سڑکوں، بجلی، زرعی معیشت اور سیاحت کے لیے مسلسل خطرہ بن رہے ہیں۔
حکام کی جانب سے فوری نقصانات کا مکمل تخمینہ ابھی سامنے نہیں آیا، اس لیے مالی نقصان یا متاثرہ خاندانوں کی قطعی تعداد کے بارے میں کوئی حتمی دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔ موجودہ صورتحال میں مقامی انتظامیہ، پولیس اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کی تازہ ہدایات پر عمل اور متاثرہ شاہراہوں پر غیر ضروری سفر سے اجتناب اہم ہے۔




