جکارتہ: انڈونیشیا کے انک کراکاٹوا آتش فشاں کے پھٹنے سے اتوار 6 ستمبر کو فضائی سفر، تعلیمی سرگرمیوں اور ساحلی ماہی گیری پر نمایاں اثر پڑا۔ رائٹرز کے مطابق آتش فشانی راکھ پھیلنے کے بعد چھ ائیرپورٹس نے پروازوں کی کارروائیاں معطل کیں، جن میں جکارتہ کا سوئیکارنو-ہٹا انٹرنیشنل ائیرپورٹ بھی شامل تھا۔ ائیرپورٹ آپریٹر انگکاسا پورا کے مطابق 301 پروازیں متاثر ہوئیں، جن میں 58 بین الاقوامی پروازیں شامل تھیں۔

انک کراکاٹوا جاوا اور سماٹرا کے درمیان واقع ہے اور جمعہ کی رات سے سرگرم تھا۔ انڈونیشیا کی وزارت ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اتوار کی صبح آتش فشانی راکھ جکارتہ کے مرکزی ائیرپورٹ تک پہنچ گئی۔ سنگاپور ائیرلائنز نے بھی جکارتہ آنے اور جانے والی اپنی باقی دن کی پروازیں منسوخ کر دیں۔ متاثرہ مسافروں کے لیے ائیرپورٹ انتظامیہ نے کھانے، ہلکی ریفریشمنٹ اور ہوٹلوں تک بسوں کے انتظام کی اطلاع دی۔

انڈونیشیا کی موسمیاتی ایجنسی بی ایم کے جی کے مطابق جاوا کی جانب راکھ تقریباً 20 ہزار فٹ اور سماٹرا کی جانب 50 ہزار فٹ تک بلند ہوئی۔ بعض علاقوں میں راکھ گرنے سے بینٹن صوبے میں روزمرہ زندگی متاثر ہوئی۔ مقامی میڈیا کے مطابق آنکھوں میں جلن اور فضائی آلودگی کے باعث کچھ اسکولوں نے سرگرمیاں منسوخ کیں جبکہ ماہی گیروں نے سمندر میں جانے سے گریز کیا۔

قومی آفات سے نمٹنے کے ادارے بی این پی بی نے شہریوں کو ماسک اور آنکھوں کے تحفظ کا استعمال کرنے، غیر ضروری بیرونی سرگرمی کم کرنے اور گاڑی چلاتے وقت کم حد نگاہ کے امکان سے محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔ ادارے نے آتش فشانی راکھ کو بارش کے ذریعے نیچے بٹھانے کے لیے موسم میں مصنوعی تبدیلی، بشمول کلاؤڈ سیڈنگ، کے ممکنہ آپریشن کا بھی اعلان کیا۔

سونڈا آبنائے میں فیری سروس معمول کے مطابق جاری رہی، تاہم حکام نے بحری جہازوں کو آتش فشاں کے دہانے سے کم از کم تین کلومیٹر دور رہنے کی ہدایت کی۔ انک کراکاٹوا 2 جولائی سے الرٹ لیول 3 پر ہے، جو انڈونیشیا کے نظام میں دوسری بلند ترین سطح ہے۔ حکام نے کہا کہ موجودہ سرگرمی سے فوری سونامی خطرے کا کوئی اشارہ نہیں ملا۔

اسی روز مشرقی جاوا میں ماؤنٹ سیمیرو سے بھی راکھ کا اخراج رپورٹ ہوا، جس پر مقامی حکام نے حفاظتی حدود برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔ انڈونیشیا بحرالکاہل کے 'رِنگ آف فائر' میں واقع ہے جہاں زلزلے اور آتش فشانی سرگرمیاں نسبتاً عام ہیں۔ موجودہ خبر میں نقصان اور پروازوں سے متعلق اعداد سرکاری اداروں اور رائٹرز کی رپورٹ پر مبنی ہیں اور صورتحال میں تبدیلی کے ساتھ مزید اپ ڈیٹس آ سکتی ہیں۔