بیجنگ/گیئرونگ: چین کے تبت اور نیپال کے درمیان اہم زمینی سرحدی گزرگاہ گیئرونگ 26 اگست کے تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے کے بعد شدید تباہی کا منظر پیش کر رہی ہے، جہاں 6 ستمبر کو ریسکیو اور بحالی ٹیمیں ملبے میں لاپتا افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے تھیں۔ رائٹرز کے نمائندوں نے چینی وزارت خارجہ کے زیر اہتمام دورے کے دوران مقام کا مشاہدہ کیا اور رپورٹ کیا کہ کبھی مصروف رہنے والی سرحدی بندرگاہ کے بڑے حصے مکمل طور پر غائب ہو چکے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق تقریباً 20 چینی ریسکیو کارکن نارنجی حفاظتی لباس میں کھدائی کرنے والی مشینوں، بیلچوں اور ریڈار ڈیٹیکٹرز کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ یہ مقام ایک تنگ دریائی گھاٹی میں واقع ہے، جہاں نیپال کی جانب گلیشیئر کے انہدام کے بعد برف، پتھر، پانی اور مٹی کا شدید ریلہ 26 اگست کو نیچے آیا اور سرحدی انفراسٹرکچر کو لپیٹ میں لے گیا۔
تصاویر اور ویڈیو کے مطابق پانچ منزلہ چینی کسٹمز عمارت کا کوئی واضح نشان باقی نہیں تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پرانے انفراسٹرکچر میں صرف ایک قریبی واٹر ٹاور کا حصہ دکھائی دے رہا تھا۔ تقریباً 20 میٹر بلند سرحدی گیٹ جہاں پہلے موجود تھا، وہاں کارکنوں نے چینی پرچم نصب کیا ہوا تھا۔ ملبے کے علاقے میں خطرے کے انتباہی بورڈ بھی لگائے گئے تھے اور متعدد ٹیمیں مختلف حصوں میں زمین اور کیچڑ کھود رہی تھیں۔
یہ سرحدی گزرگاہ چین اور نیپال کے درمیان تجارت، سفر اور مذہبی سیاحت کے لیے اہم راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ واقعے کے بعد سرحد پار نقل و حرکت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ رائٹرز نے بتایا کہ حادثے کے بعد دونوں جانب سینکڑوں افراد لاپتا ہیں اور وسیع پیمانے پر تلاش اور بحالی کا کام جاری ہے۔ اس خبر میں لاپتا افراد کی مجموعی تعداد کے بارے میں صرف وہی اعداد شامل کیے گئے ہیں جو مختلف سرکاری یا معتبر رپورٹوں میں سامنے آئے؛ صورتحال مسلسل بدلنے کے باعث حتمی تعداد مختلف ہو سکتی ہے۔
ماہرین نے اس تباہی کے پس منظر میں بلند پہاڑی علاقوں میں گلیشیئرز، برفانی ڈھانچوں اور شدید موسمی واقعات سے پیدا ہونے والے مرکب خطرات کی طرف توجہ دلائی ہے۔ تاہم کسی ایک واقعے کو براہ راست موسمیاتی تبدیلی سے منسوب کرنے کے لیے تفصیلی سائنسی جانچ ضروری ہوتی ہے۔ اس لیے موجودہ خبر کا مرکز ریسکیو، سرحدی انفراسٹرکچر کی تباہی اور موقع پر دیکھی جانے والی صورتحال ہے، نہ کہ اس تباہی کی حتمی سائنسی وجہ کا تعین۔
چینی حکام کی جانب سے متاثرہ مقام تک منظم رسائی دی گئی، جہاں تلاش کا عمل جاری تھا۔ رائٹرز کے مشاہدے سے واضح ہوا کہ گیئرونگ کی اہمیت کے باوجود فوری ترجیح لاپتا افراد کی تلاش، علاقے کو محفوظ بنانا اور بنیادی رابطہ بحال کرنا ہے۔ سرحدی گزرگاہ کی مکمل بحالی کے لیے درکار وقت اور لاگت کے بارے میں ابھی کوئی حتمی سرکاری تخمینہ سامنے نہیں آیا۔




