مہمند: خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع مہمند کے مختلف حصوں میں شدید بارش اور تیز ہواؤں کے بعد فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات نے مقامی آمدورفت اور رابطہ راستوں کو متاثر کیا۔ ڈان کے مطابق یکہ غنڈ تحصیل میں اقراب ڈگ خوڑ میں اچانک سیلابی ریلہ آنے سے مزدور اور اسکول جانے والے بچے راستے میں پھنس گئے، جنہیں مقامی لوگوں نے ٹریکٹر ٹرالی کی مدد سے محفوظ مقام تک پہنچایا۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اقراب ڈگ خوڑ میں شدید بارش کے دوران پانی کا تیز بہاؤ پہلے بھی نقل و حرکت میں رکاوٹ بنتا رہا ہے۔ انہوں نے اس مقام پر مستقل پل کی تعمیر کا مطالبہ کیا تاکہ طلبہ، مزدوروں اور دیگر شہریوں کے لیے بارش کے موسم میں محفوظ گزرگاہ دستیاب ہو سکے۔
خویزئی اور بائزئی کے علاقوں میں بھی بارش کے بعد کوزو کسک خوڑ میں پانی کی سطح بلند ہوئی، جس سے دونوں علاقوں کے درمیان ٹریفک متاثر ہوئی۔ رہائشیوں کے مطابق ایک پل سیلابی ریلے میں بہہ گیا اور متعدد افراد کو سرکاری گاڑی کے ذریعے متاثرہ مقام سے پار کرایا گیا۔ تحصیل انتظامیہ اور متعلقہ افسران نے موقع پر صورتحال کا جائزہ لیا اور آمدورفت بحال رکھنے کے اقدامات کیے۔
دوسری جانب کراپا کے علاقے میں مرکزی پشاور-باجوڑ روڈ پر لینڈ سلائیڈنگ کی اطلاع ملی، جس سے گاڑیوں کی آمدورفت میں خلل پڑا اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق بالائی مہمند کے مختلف مقامات پر ملبہ ہٹانے اور سڑکیں کھولنے کے لیے مشینری تعینات کی گئی۔
انتظامیہ نے بتایا کہ دستیاب ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم دو تحصیلوں میں کچے مکانات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ملی ہیں۔ نقصانات کا جائزہ جاری ہے اور متعلقہ محکمے متاثرہ علاقوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔
مہمند کے پہاڑی اور ندی نالوں والے علاقوں میں مختصر دورانیے کی شدید بارش تیزی سے مقامی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ موجودہ واقعے میں فوری ریسکیو اور سڑک بحالی اقدامات سے لوگوں کو نکالا گیا، تاہم بار بار متاثر ہونے والے راستوں پر مستقل انفراسٹرکچر اور پلوں کی ضرورت ایک بار پھر نمایاں ہوئی ہے۔




