لاہور: پاکستان محکمہ موسمیات کے فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے پنجاب کے سات شہروں میں شدید بارش کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی بھرنے اور شہری معمولات متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ 6 ستمبر کے لیے جاری پیش گوئی میں لاہور، شیخوپورہ، قصور، فیصل آباد، سرگودھا، جھنگ اور اوکاڑہ کو خاص طور پر ان علاقوں میں شامل کیا گیا ہے جہاں تیز بارش سڑکوں، آمدورفت اور روزمرہ سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا کرسکتی ہے۔

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق مون سون کی جاری لہر کے دوران بڑے دریاؤں اور ان سے منسلک ندی نالوں میں بہاؤ بڑھنے کا امکان بھی موجود ہے۔ پیش گوئی میں کہا گیا ہے کہ گڈو بیراج پر دریائے سندھ کا بہاؤ نچلے درجے کی سیلابی سطح تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ سندھ، جہلم، چناب اور راوی کے مختلف مقامات اور ان سے وابستہ معاون ندیوں میں بھی پانی کی مقدار میں معتدل اضافہ متوقع ہے۔

محکمے نے پنجاب کے سات شہروں کے علاوہ اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم، گجرات اور گوجرانوالہ میں شہری سیلاب کے امکان کی نشاندہی کی ہے۔ اسی طرح خیبرپختونخوا کے بعض برساتی نالوں اور دریائے کابل سے منسلک معاون آبی گزرگاہوں میں اچانک سیلاب کا خطرہ بتایا گیا ہے۔ یہ تنبیہ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کے مختلف حصوں میں مون سون بارشیں وقفے وقفے سے جاری ہیں اور مقامی نکاسی آب کے نظام پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے دستیاب اعدادوشمار کے مطابق تربیلا ذخیرہ آب اپنی زیادہ سے زیادہ محفوظ سطح پر ہے جبکہ منگلا ڈیم تقریباً 79 فیصد بھرا ہوا بتایا گیا۔ دریا سندھ میں کالا باغ اور چشمہ کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، تاہم دیگر بڑے دریاؤں کے بیشتر مانیٹرنگ مقامات پر بہاؤ معمول کی حدود میں تھا۔

محکمہ موسمیات کی پیش گوئی خطرے کی پیشگی اطلاع ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر درج شدہ شہر میں لازماً شدید سیلاب آئے گا۔ بارش کی شدت، دورانیہ، مقامی نکاسی آب اور ندی نالوں کے بہاؤ کی حقیقی صورت حال کے مطابق اثرات مختلف ہوسکتے ہیں۔ شہریوں کے لیے خاص طور پر نشیبی علاقوں، انڈر پاسز اور کم نکاسی والے مقامات پر احتیاط ضروری ہے، جبکہ سفر سے قبل مقامی انتظامیہ اور محکمہ موسمیات کی تازہ ہدایات دیکھنا مفید ہوگا۔

پنجاب کے بڑے شہری مراکز میں شدید بارش کے دوران سڑکوں پر پانی جمع ہونا ماضی میں بھی ٹریفک کی روانی، بجلی کی فراہمی اور امدادی کارروائیوں کو متاثر کرتا رہا ہے۔ موجودہ انتباہ کا بنیادی مقصد مقامی انتظامیہ اور شہریوں کو ممکنہ شدید بارش کے اثرات کے لیے پیشگی تیاری کا موقع دینا ہے۔