ملتان: جماعت اسلامی نے وزیراعظم شہباز شریف سے مجوزہ مذاکرات تک اپنے اسلام آباد لانگ مارچ کو ملتان میں روکنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم پارٹی نے واضح کیا ہے کہ احتجاجی تحریک، دھرنے اور پیٹرولیم لیوی ختم کرنے سمیت اس کے مطالبات برقرار رہیں گے۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے یہ اعلان پارٹی مشاورت کے بعد ملتان میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ان سے رابطہ کر کے مارچ کو منسوخ یا چند روز کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔ ان کے بقول وزیراعظم نے بیرون ملک سے واپسی کے بعد جماعت اسلامی کی قیادت سے ملاقات اور عوامی ریلیف کے اقدامات پر بات کرنے کا کہا۔ وزیراعظم کے اس رابطے کی تفصیل جماعت اسلامی کے میڈیا و سوشل میڈیا بیانات میں بھی جاری کی گئی۔

حافظ نعیم نے کہا کہ جماعت اسلامی لانگ مارچ یا احتجاجی تحریک ختم نہیں کر رہی بلکہ وزیراعظم کو مذاکرات کا موقع دے رہی ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کے احتجاجی کیمپ اور دھرنے جاری رہیں گے اور کارکن اسلام آباد مارچ کی تیاری برقرار رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات میں قابل قبول ریلیف نہ ملا تو اکتوبر کے ابتدائی دنوں میں مارچ دوبارہ آگے بڑھ سکتا ہے۔

جماعت اسلامی کی مرکزی معاشی مانگ پیٹرولیم مصنوعات پر اضافی لیوی ختم کرنا ہے۔ پارٹی قیادت نے حکومت کے موجودہ ریلیف پیکیج کو ناکافی قرار دیا ہے۔ حکومت نے 13 ستمبر کو فیول ریلیف اسکیم کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت اہل موٹر سائیکلوں، رکشوں، دیگر دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں اور 800 سی سی تک کی کاروں کے لیے فی لیٹر 100 روپے سبسڈی کا نظام متعارف کرایا گیا۔

حافظ نعیم نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے متبادل کے لیے حکومتی کمیٹی کو تجاویز دی تھیں، لیکن حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے وابستہ مالی دباؤ کا حوالہ دیا۔ اس دعوے کی تفصیلی سرکاری دستاویز رپورٹ میں شامل نہیں تھی، اس لیے اسے جماعت اسلامی کے موقف کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔

پارٹی نے 20 ستمبر کو کراچی سے اسلام آباد کی جانب ٹرین مارچ شروع کیا تھا۔ پہلے مرحلے میں قافلہ کراچی سے روہڑی اور پھر ملتان پہنچا۔ جماعت اسلامی کے مطابق اس سے قبل ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے، دھرنے اور 3 ستمبر کو شٹر ڈاؤن ہڑتال بھی کی گئی تھی۔

تازہ فیصلہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے عارضی وقفہ فراہم کرتا ہے، لیکن بنیادی مطالبات پر کوئی حتمی سمجھوتا نہیں ہوا۔ مذاکرات کے بعد ہی واضح ہوگا کہ حکومت مزید ریلیف یا لیوی سے متعلق کوئی پالیسی تبدیلی کرتی ہے یا جماعت اسلامی اپنا مارچ دوبارہ اسلام آباد کی طرف بڑھاتی ہے۔