جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف اسلام آباد کی جانب جاری لانگ مارچ کو وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل پر عارضی طور پر مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ملتان میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی حکومت کو بات چیت کا ایک موقع دے رہی ہے، تاہم پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاجی مہم ختم نہیں کی جا رہی۔

یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف اور حافظ نعیم الرحمٰن کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کے بعد سامنے آیا۔ وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم نے جماعت اسلامی کے سربراہ سے دھرنا مؤخر کرنے کی درخواست کی اور دونوں رہنماؤں نے وزیراعظم کی امریکا کے سرکاری دورے سے واپسی کے بعد ملاقات اور مزید مشاورت پر اتفاق کیا۔ حافظ نعیم نے بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم کی درخواست پر پارٹی قیادت سے مشاورت کے لیے وقت لیا تھا۔

جماعت اسلامی کے امیر نے کہا کہ کارکن میدان میں موجود رہیں گے اور احتجاجی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی۔ ان کے مطابق اگر مجوزہ ملاقات میں حکومت عوام کو مطلوبہ ریلیف دینے پر آمادہ ہوتی ہے تو پیش رفت ہو سکتی ہے، بصورت دیگر پارٹی اکتوبر کے پہلے ہفتے میں لانگ مارچ دوبارہ اسی انداز میں جاری رکھنے کا اختیار رکھتی ہے۔ یہ جماعت اسلامی کی جانب سے اعلان کردہ سیاسی حکمت عملی ہے اور آئندہ لائحہ عمل حکومت کے ساتھ ملاقات کے نتیجے سے منسلک کیا گیا ہے۔

جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی اور ایندھن کی بلند قیمتوں کو اپنے احتجاج کا مرکزی موضوع بنایا ہوا ہے۔ مارچ کراچی اور سندھ کے مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا ملتان پہنچا تھا اور پارٹی نے اسلام آباد جانے کا اعلان کر رکھا تھا۔ اس دوران حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار بھی ہوئے، لیکن فوری طور پر ایسا سمجھوتا سامنے نہیں آیا تھا جس کے بعد احتجاج ختم کیا جاتا۔

لانگ مارچ کا مؤخر ہونا احتجاج کے خاتمے کے مترادف نہیں ہے۔ پارٹی قیادت نے واضح کیا ہے کہ کارکنوں کی تنظیم سازی، احتجاجی کیمپ اور عوامی رابطہ جاری رہے گا۔ دوسری جانب وزیراعظم آفس نے ملاقات اور مشاورت کی تصدیق کی ہے۔ اب اگلا اہم مرحلہ وزیراعظم کی وطن واپسی کے بعد دونوں جانب کی ملاقات ہوگا، جس میں پیٹرولیم لیوی اور ممکنہ ریلیف کے معاملے پر بات چیت متوقع ہے۔