وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا افتتاح کیا ہے۔ دی نیشن کے مطابق صوبائی حکومت نے ادارے کو جدید اور مفت قلبی علاج کے مرکز کے طور پر پیش کیا ہے، جہاں پنجاب کے علاوہ ملک کے دوسرے حصوں سے آنے والے مریضوں کو بھی خدمات دینے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
افتتاحی تقریب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ دل کے امراض وسیع پیمانے پر خاندانوں کو متاثر کر رہے ہیں اور سرکاری اختیار رکھنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ علاج تک رسائی بہتر بنائیں۔ انہوں نے صوبے میں مفت ادویات اور علاج کی موجودہ اسکیموں کا حوالہ بھی دیا۔ یہ بیانات حکومتی اعلان ہیں؛ ہر مریض کی طبی اہلیت اور علاج کا فیصلہ متعلقہ ماہرین کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق ادارے میں جدید ہائبرڈ کیتھیٹرائزیشن لیبارٹری، بین الاقوامی ڈیزائن کے وارڈز اور جدید قلبی آلات شامل ہیں۔ عملے کی تربیت کو بھی بین الاقوامی معیار سے جوڑا گیا ہے۔ اے پی پی کی سابقہ رپورٹ نے اس ادارے کو جدید کارڈیک خدمات کے منصوبے کے طور پر بیان کیا تھا، جبکہ دی نیشن کی تازہ رپورٹ افتتاح کی تصدیق کرتی ہے۔
وزیراعلیٰ نے ہارٹ ٹرانسپلانٹ فنڈ قائم کرنے اور ادارے میں ٹرانسپلانٹ کے عمل کا آغاز کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے ایک ٹرانسپلانٹ کی ممکنہ لاگت تقریباً پچاس ہزار ڈالر بتائی۔ یہ رقم تقریری اندازہ ہے، کسی مریض کا بل یا طے شدہ سرکاری نرخ نہیں۔ ٹرانسپلانٹ کے لیے طبی جانچ، ڈونر دستیابی، قانونی تقاضے اور ماہر ٹیم کی منظوری بنیادی شرائط رہیں گی۔
تقریب میں بچوں کی سرجری، صوبے میں کام کرنے والی کیتھ لیبز، گھر پر ڈائیلاسز اور فالج سے بچاؤ کی دوا جیسے دوسرے صحت منصوبوں کا ذکر بھی ہوا۔ ان پروگراموں کی اہلیت، مقامات اور آغاز کی تفصیل اس خبر میں مکمل طور پر جاری نہیں ہوئی، اس لیے مریض متعلقہ محکمہ صحت یا ادارے سے براہ راست تصدیق کریں۔
اردو ہیڈ لائنز علاج کے لیے رجسٹریشن، او پی ڈی اوقات، ریفرل نظام، ٹرانسپلانٹ پروگرام کی طبی شرائط اور رابطہ معلومات کی باضابطہ اشاعت پر اسی خبر کو اپ ڈیٹ کرے گا۔ یہ خبر طبی مشورہ نہیں؛ ہنگامی علامات کی صورت میں قریبی ایمرجنسی یا مستند معالج سے فوری رجوع کیا جائے۔




