اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت جائزہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کے زیر تعمیر پولی کلینک فیز ٹو ایکسٹینشن، سیکٹر جی-11، کو مجوزہ جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر کے پہلے مرحلے کے طور پر تیار کیا جائے۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو اس پہلے مرحلے کی تعمیر مارچ 2027 تک مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ ہسپتال کو جلد عملی طور پر فعال کیا جا سکے۔

سرکاری اجلاس کی رپورٹ میں مارچ 2027 کی مدت پورے مجوزہ جناح میڈیکل کمپلیکس کی حتمی تکمیل کے لیے نہیں دی گئی۔ اس کا براہ راست تعلق پہلے سے زیر تعمیر پولی کلینک فیز ٹو توسیع کو پہلے مرحلے میں تبدیل کرنے اور اسے ہسپتال کے طور پر قابل استعمال بنانے سے ہے۔ مجوزہ مرکزی کمپلیکس اور ریسرچ سینٹر کی مکمل عمارت، بعد کے مراحل یا مجموعی تکمیل کی الگ تاریخ ابھی جاری نہیں کی گئی۔

3 ستمبر کو وزیراعظم آفس میں ہونے والے اجلاس میں جناح میڈیکل کمپلیکس کی عمارت کے مختلف ڈیزائن اور تعمیراتی تجاویز پیش کی گئیں۔ شرکا کو جی-11 پولی کلینک توسیع کی موجودہ تعمیراتی پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔ دستیاب سرکاری خلاصے میں منصوبے کی موجودہ فیصد تکمیل، اصل اور نظرثانی شدہ لاگت، ٹھیکیدار، بستروں کی حتمی تعداد یا مارچ تک باقی تعمیراتی سنگ میل کی تفصیل شامل نہیں تھی۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پہلے مرحلے کو جدید اور اعلیٰ معیار کے ہسپتال کے طور پر تیار کیا جائے اور اس میں جدید طبی آلات و مشینری نصب کی جائے۔ طبی سازوسامان کی اقسام، خریداری کی مالیت، ٹینڈر کا شیڈول اور تربیت یافتہ عملے کی بھرتی سے متعلق تفصیلی منصوبہ عام نہیں کیا گیا۔ کسی عمارت کی تعمیر مکمل ہونا اور مکمل طبی خدمات شروع ہونا الگ مراحل ہیں، کیونکہ آپریشن کے لیے آلات، ادویات، عملہ، لائسنسنگ اور مسلسل بجٹ بھی ضروری ہوتے ہیں۔

اجلاس میں یہ ہدایت بھی دی گئی کہ منصوبے کی جسمانی پیش رفت کے ساتھ تیسرے فریق سے توثیق جاری رکھی جائے تاکہ معیار اور شفافیت کی نگرانی ہو۔ تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کرنے والے ادارے، اس کے دائرۂ کار، رپورٹوں کی اشاعت اور خامیوں کی اصلاح کے طریقے کی تفصیل سرکاری بیان میں نہیں بتائی گئی۔ مؤثر نگرانی کے لیے ایسی رپورٹوں کے نتائج اور تعمیراتی سنگ میل عوامی طور پر دستیاب ہونا اہم ہو گا۔

وزیراعظم نے صحت کی معیاری سہولتوں کو حکومتی ترجیح قرار دیتے ہوئے شعبۂ صحت کی اصلاحات تیز کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ اور متعلقہ اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ مختلف وزارتوں کی شمولیت منصوبے کے تعمیراتی، مالی، بجلی، آلات اور انتظامی تقاضوں سے تعلق رکھ سکتی ہے، لیکن ذمہ داریوں کی وزارت وار تقسیم جاری نہیں کی گئی۔

پولی کلینک کی موجودہ توسیع کو بڑے کمپلیکس کے پہلے مرحلے کے طور پر استعمال کرنے کا مقصد نئی مکمل عمارت کے انتظار کے بجائے زیر تعمیر سہولت سے جلد طبی خدمات شروع کرنا بتایا گیا ہے۔ اس انتظام سے وقت بچ سکتا ہے، مگر عمارت کے اصل ڈیزائن کو نئے ہسپتال کے کلینیکل تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، مریضوں کے بہاؤ، ایمرجنسی، انفیکشن کنٹرول، پارکنگ، بجلی کے بیک اپ اور طبی فضلے کے انتظام کی تفصیلی جانچ ضروری ہو گی۔

مارچ 2027 وزیراعظم کی مقرر کردہ انتظامی ڈیڈلائن ہے، مکمل ہونے کی پیشگی ضمانت نہیں۔ اس ہدف کی تصدیق بعد میں تعمیراتی سرٹیفکیٹ، آلات کی تنصیب، عملے کی تعیناتی، مریض خدمات کے باضابطہ آغاز اور تھرڈ پارٹی معیار رپورٹ سے ہو گی۔ حکومت نے کسی افتتاحی دن یا مکمل طبی آپریشن کی قطعی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔

اگلا قابل پیمائش مرحلہ منصوبے کا تفصیلی ٹائم لائن، لاگت اور بستروں و شعبوں کی فہرست جاری ہونا ہے۔ اس کے بعد ماہانہ یا سہ ماہی جسمانی پیش رفت، آلات کی خریداری اور ہسپتال کے آپریشنل پلان سے معلوم ہو سکے گا کہ جی-11 توسیع مقررہ مدت میں جناح میڈیکل کمپلیکس کے پہلے مرحلے کے طور پر خدمات شروع کرنے کے قابل بنتی ہے یا نہیں۔