لندن: انگلینڈ کے تجربہ کار بلے باز جو روٹ نے فاسٹ بولر برائیڈن کارس سے منسوب نائٹ کلب واقعے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کھلاڑیوں کو ٹیم کی نمائندگی سے جڑی ذمہ داری یاد دلائی ہے۔ ایکسپریس اردو کی 26 اگست کی رپورٹ کے مطابق واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے معاملے کا نوٹس لیا اور کارس کو پاکستان کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے لیے دستیاب نہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کارس کو واقعے کے دوران مختصر وقت کے لیے حراست میں لیا گیا تھا، بعد میں رہا کر دیا گیا اور ان کے خلاف کوئی مقدمہ قائم نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود متعلقہ کرکٹ ریگولیٹر رویے کے معاملے کی جانچ کر رہا ہے۔ قانونی کارروائی نہ ہونا اور کھیل کے ضابطۂ اخلاق کی اندرونی تحقیقات دو الگ امور ہیں؛ بورڈ اپنے معاہداتی اور پیشہ ورانہ قواعد کے تحت علیحدہ فیصلہ کر سکتا ہے۔

جو روٹ نے صورت حال کو ٹیم کے لیے مایوس کن قرار دیا اور ایسے غلط فیصلوں سے بچنے پر زور دیا جن کا اثر کھلاڑی کے ساتھ پورے اسکواڈ پر پڑ سکتا ہے۔ ان کے بیان کو کسی قانونی جرم کا تعین نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ یہ ایک سینئر کھلاڑی کا پیشہ ورانہ نظم و ضبط اور ٹیم کی ساکھ سے متعلق ردعمل ہے۔ کارس یا ان کے نمائندے کا تفصیلی مؤقف دستیاب رپورٹ میں شامل نہیں۔

ای سی بی نے کارس کی جگہ سونی بیکر کو پاکستان کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے اسکواڈ میں شامل کیا ہے۔ اس تبدیلی کا فوری کھیلوں سے متعلق اثر بولنگ کے انتخاب اور ٹیم توازن پر پڑے گا۔ تاہم حتمی الیون، بیکر کی شرکت اور انضباطی تحقیقات کے ممکنہ نتیجے کا اعلان الگ مراحل ہیں۔ زیر نظر خبر سے کسی طویل پابندی یا سزا کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا رہا۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت سوشل میڈیا ویڈیوز کے بعد پیدا ہونے والا معاملہ، کارس کا دوسرے ٹیسٹ سے اخراج، بیکر کی شمولیت اور روٹ کا ردعمل ہے۔ ریگولیٹر کی تحقیقات مکمل ہونے پر ہی کسی باقاعدہ انضباطی نتیجے کی درست رپورٹنگ ممکن ہوگی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک