پنجاب حکومت نے صوبے کے تعلیمی اداروں میں کھیلوں کی سرگرمیاں بحال کرنے اور اکتوبر سے دسمبر تک بڑے مقابلے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دی نیشن کی رپورٹ کے مطابق صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی زیر صدارت اجلاس میں مقابلوں کا شیڈول اور انتظامی ڈھانچہ زیر بحث آیا۔

اعلان کے مطابق کھیلوں کے مقابلے تحصیل، ضلع، ڈویژن اور صوبائی سطح پر ہوں گے۔ مختلف مرحلوں سے کامیاب ہونے والے طلبہ دسمبر میں ہونے والے حتمی صوبائی ایونٹ تک پہنچیں گے، جس کی میزبانی لاہور بورڈ کرے گا۔ رپورٹ میں تمام کھیلوں کی مکمل فہرست یا ہر ضلع کی تاریخیں نہیں دی گئیں، اس لیے ان تفصیلات کے لیے متعلقہ تعلیمی بورڈ یا محکمہ اسکول ایجوکیشن کے باضابطہ شیڈول کا انتظار ہوگا۔

وزیر تعلیم نے مقابلوں کی انعامی رقم بڑھانے کا بھی اعلان کیا۔ رپورٹ کے مطابق مختلف درجات کے لیے ایک لاکھ، تین لاکھ اور پانچ لاکھ روپے کے انعامات مقرر کیے گئے ہیں۔ دستیاب خبر میں یہ واضح نہیں کہ ہر رقم کس مخصوص سطح، ٹیم یا انفرادی مقابلے کے لیے ہوگی، اس لیے انہیں ہر فاتح کے لیے یکساں رقم نہیں سمجھا جاسکتا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ وزیر نے کھیلوں کی کٹس کے معیار پر سمجھوتا نہ کرنے کی ہدایت دی۔ صوبے کے تمام 35 ہزار اسکولوں میں کھیلوں کی کمیٹیاں قائم کیے جانے کی اطلاع بھی دی گئی ہے، جبکہ 450 اسکولوں کو پہلے ہی کھیلوں کا سامان فراہم کیا جاچکا ہے۔

اس پروگرام کی کامیابی کا انحصار صرف اعلان پر نہیں بلکہ میدانوں کی دستیابی، تربیت یافتہ عملے، محفوظ سازوسامان، طالبات اور طلبہ کی یکساں شرکت، سفر اور طبی انتظامات پر ہوگا۔ رپورٹ میں ان عملی اخراجات یا نگرانی کے طریقے کی مکمل تفصیل شامل نہیں، اس لیے عمل درآمد کی جانچ آئندہ شیڈول اور زمینی سرگرمی سے ہوگی۔

فی الحال فیصلہ صوبائی سطح پر کھیل بحال کرنے، مرحلہ وار مقابلے منعقد کرنے، انعامی رقوم بڑھانے اور اسکولی کمیٹیوں کے ذریعے سرگرمی منظم کرنے پر مشتمل ہے۔ طلبہ اور والدین کو رجسٹریشن، اہلیت اور مقابلے کی تاریخوں کے لیے اپنے اسکول یا متعلقہ بورڈ کی تصدیق شدہ اطلاع پر انحصار کرنا چاہیے۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک