میکے: آسٹریلیا اور بنگلا دیش کے درمیان دوسرا ٹیسٹ صرف دو دن میں مکمل ہونے کے بعد میچ کے مختصر دورانیے، کم مجموعی اسکور اور انفرادی بولنگ کارکردگی کے کئی ریکارڈ سامنے آئے ہیں۔ ایکسپریس اردو کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق پورے مقابلے میں 750 گیندیں کھیلی گئیں، جس کے باعث یہ مردوں کی ٹیسٹ تاریخ میں نتیجہ دینے والا چوتھا مختصر ترین میچ اور آسٹریلیا کا دوسرا مختصر ترین مکمل ٹیسٹ بن گیا۔
رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کے آخری سات ٹیسٹ میچوں میں یہ تیسرا مقابلہ تھا جو دو دن میں ختم ہوا۔ دونوں ٹیموں نے مجموعی طور پر 369 رنز بنائے، جو نتیجہ خیز ٹیسٹ میچوں میں چھٹا کم ترین مجموعہ اور آسٹریلیا کے کسی مکمل ٹیسٹ میں دوسرا کم ترین مجموعی اسکور بتایا گیا ہے۔ یہ اعداد میچ کی پچ، حالات اور تیز گیند بازوں کے غلبے کی تصویر پیش کرتے ہیں، تاہم دستیاب رپورٹ میں پچ رپورٹ یا موسم کی الگ تکنیکی تفصیل شامل نہیں۔
بنگلا دیش کی ٹیم پہلی اننگز میں 64 اور دوسری اننگز میں 95 رنز بنا سکی۔ رپورٹ کے مطابق 21 برس میں یہ پہلا موقع تھا کہ کوئی ٹیم ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں سو رنز سے کم پر آؤٹ ہوئی۔ آسٹریلیا نے اپنی اننگز میں 210 رنز بنائے اور یوں مقابلہ اننگز کے فرق سے جیت لیا۔ اس خبر میں سیریز کے مجموعی نتیجے یا آئندہ شیڈول سے متعلق کوئی اضافی دعویٰ نہیں کیا جا رہا۔
آسٹریلوی فاسٹ بولر مچل اسٹارک نے میچ میں 109 گیندوں کے اندر دس وکٹیں مکمل کیں۔ ایکسپریس کی رپورٹ اسے کسی آسٹریلوی بولر کی تیز ترین دس وکٹوں والی میچ کارکردگی قرار دیتی ہے۔ اسٹارک نے ٹیسٹ میچ میں چوتھی مرتبہ دس وکٹیں حاصل کیں اور اس تعداد کے اعتبار سے ڈینس للی کے ریکارڈ کی برابری بھی کی۔
بنگلا دیش کے شرف الاسلام نے سات وکٹیں دے کر 48 رنز کی کارکردگی دکھائی۔ رپورٹ کے مطابق وہ ٹیسٹ اننگز میں سات وکٹیں لینے والے پہلے بنگلا دیشی فاسٹ بولر بنے، جبکہ تقریباً 140 برس میں آسٹریلیا کے خلاف ایک اننگز میں سات وکٹیں لینے والے پہلے بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر بھی قرار پائے۔ ٹیم کی شکست کے باوجود یہ انفرادی کارکردگی میچ کا نمایاں پہلو رہی۔ ریکارڈز کو ایکسپریس کی شائع کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر پیش کیا گیا ہے اور کسی غیرموجود سرکاری اسکورکارڈ سے اضافی نمبر شامل نہیں کیے گئے۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




