لاہور: پاکستان ویمنز ٹیم کی وکٹ کیپر بیٹر نجیہہ علوی بائیں گھٹنے کی انجری کے باعث ویمنز ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ سے باہر ہوگئی ہیں۔ ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے بتایا کہ گھٹنے کے پچھلے حصے میں تکلیف کے بعد کرائے گئے اسکین میں ممکنہ انجری کی نشاندہی ہوئی ہے، جس کے باعث انہیں تقریباً چار ہفتے بحالی کے عمل سے گزرنا ہوگا۔

پی سی بی کے اعلان کے مطابق صدف شمس کو نجیہہ علوی کی جگہ قومی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ تبدیلی ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے ٹیم کی وکٹ کیپنگ اور بیٹنگ ترتیب کے لیے اہم ہے، تاہم رپورٹ میں حتمی پلیئنگ الیون یا صدف شمس کے مخصوص کردار کا اعلان نہیں کیا گیا۔

نجیہہ علوی پاکستان کے لیے 12 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کھیل چکی ہیں اور اس فارمیٹ میں ان کی آخری نمائندگی اکتوبر 2024 میں رہی۔ رواں سال ایک روزہ کرکٹ میں انہوں نے نو اننگز میں 488 رنز بنائے، جن میں ایک سنچری اور چار نصف سنچریاں شامل ہیں۔ ان اعداد و شمار کی وجہ سے ان کی غیر موجودگی کو بیٹنگ کے نقطۂ نظر سے بھی اہم سمجھا جائے گا۔

ویمنز ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ 28 اگست سے 13 ستمبر تک دبئی میں کھیلا جائے گا۔ پاکستان اپنی مہم کا آغاز یکم ستمبر کو تھائی لینڈ کے خلاف میچ سے کرے گا۔ ٹورنامنٹ کے قریب انجری سامنے آنے کے باعث ٹیم انتظامیہ کے پاس متبادل کو ماحول اور حکمت عملی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے محدود وقت ہے۔

بورڈ کی جانب سے دی گئی چار ہفتوں کی مدت بحالی کا ابتدائی اندازہ ہے؛ کھلاڑی کی واپسی طبی معائنے، بحالی کی پیش رفت اور فٹنس کلیئرنس سے مشروط ہوگی۔ اس وقت نجیہہ علوی کے کسی اگلے مقابلے میں دستیاب ہونے کی قطعی تاریخ نہیں بتائی گئی، اس لیے ان کی واپسی سے متعلق حتمی فیصلہ طبی ٹیم ہی کرے گی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک