انگلینڈ نے پاکستان کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز سے قبل وکٹ کیپر بلے باز جورڈن کوکس کو بیٹنگ آرڈر میں نمبر تین کی اہم ذمہ داری سونپی ہے۔ جیکب بیتھل گھٹنے کی چوٹ کے باعث دستیاب نہیں، اس لیے کوکس کم از کم ابتدائی دو ٹیسٹ میچوں میں اوپری ترتیب میں کھیلنے کے امیدوار ہیں۔ سیریز کا پہلا میچ 19 سے 23 اگست تک ہیڈنگلے، دوسرا 27 سے 31 اگست تک لارڈز اور تیسرا 9 سے 13 ستمبر تک ایجبسٹن میں کھیلا جائے گا۔ یہ سیریز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ ہے۔

کوکس نے جون میں نیوزی لینڈ کے خلاف دی اوول میں اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا۔ انہوں نے ساتویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے 27 اور 25 رنز بنائے، تاہم انگلینڈ وہ میچ ہار گیا۔ اب نمبر تین پر آنے کا مطلب ہے کہ انہیں نئی گیند نسبتاً تازہ ہونے کے دوران پاکستانی فاسٹ اور اسپن بولنگ دونوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس پوزیشن پر صرف رنز نہیں بلکہ ابتدائی وکٹ گرنے کی صورت میں اننگز کو سنبھالنا اور اوپنرز کے ساتھ بڑی شراکت قائم کرنا بھی اہم ہوتا ہے۔

کوکس کا ٹیسٹ کرکٹ تک سفر سیدھا نہیں رہا۔ 2024 میں نیوزی لینڈ کے دورے پر وہ ڈیبیو سے صرف تین دن پہلے نیٹ پریکٹس کے دوران انگوٹھا تڑوا بیٹھے تھے اور پوری سیریز سے باہر ہو گئے۔ اس وقت جیکب بیتھل نے ان کی جگہ لی اور بعد میں انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم میں اپنی جگہ مضبوط کی۔ کوکس کے مطابق اس چوٹ کے بعد انہیں خدشہ تھا کہ شاید دوسرا موقع نہ ملے، مگر اب انہیں مختلف بیٹنگ پوزیشن میں دوبارہ خود کو ثابت کرنے کا موقع ملا ہے۔

رواں سال انڈین پریمیئر لیگ میں رائل چیلنجرز بنگلورو کے ساتھ رہتے ہوئے کوکس نے ویرات کوہلی سے ذہنی دباؤ اور بڑے موقع سے نمٹنے پر بات کی تھی۔ کوکس کے مطابق کوہلی نے انہیں مشورہ دیا کہ ڈیبیو اور بڑے موقع کو بوجھ بنانے کے بجائے اس لمحے سے لطف اٹھائیں اور خاندان و دوستوں کی برسوں کی حمایت کو اپنی کارکردگی سے معنی دیں۔ کوکس نے کہا کہ وہ اس نقطۂ نظر کو پاکستان کے خلاف نئی ذمہ داری میں بھی ساتھ رکھیں گے۔

انگلینڈ کے اسکواڈ میں جو روٹ کپتان ہیں، جبکہ جوفرا آرچر، گس اٹکنسن، شعیب بشیر، ہیری بروک، برائیڈن کارس، سیم کک، بین ڈکٹ، میتھیو فشر، ایمیلیو گی، ڈین لارنس، اولی پوپ، اولی رابنسن، جیمی اسمتھ اور جوش ٹنگ بھی شامل ہیں۔ نمبر تین کی حتمی کامیابی کا فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ کوکس نئی ذمہ داری میں تکنیکی نظم، صبر اور اسکور بنانے کی رفتار کے درمیان کتنا مؤثر توازن قائم کرتے ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی یہ نئی ترتیب ابتدائی اوورز میں دباؤ بڑھانے کا موقع فراہم کرتی ہے، اس لیے ہیڈنگلے کا پہلا ٹیسٹ دونوں ٹیموں کی حکمت عملی کا فوری امتحان ہوگا۔