کراچی: جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں کینسر کے مریضوں کے لیے دوسرا ڈیجیٹل پی ای ٹی سی ٹی اسکینر نصب کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ آٹھ نومبر کی رپورٹ کے مطابق پیشنٹس ایڈ فاؤنڈیشن سندھ حکومت کے تعاون سے اگلے سال یہ سہولت بڑھانا چاہتی ہے۔ منصوبہ ابھی فنڈ جمع کرنے اور خریداری کی تیاری کے مرحلے میں ہے؛ نئی مشین کی تنصیب مکمل ہونے کا اعلان نہیں ہوا۔
اسپتال کے شعبہ سائبر نائف اور ٹوموتھراپی کے سربراہ پروفیسر ایمریٹس ڈاکٹر طارق محمود نے بتایا کہ خریداری کے لیے فنڈ جمع کرنے کی مہم شروع کی جاچکی ہے۔ ماہرین کے مطابق نئی یونٹ کی تخمینی لاگت بیس لاکھ امریکی ڈالر ہے۔ یہ تخمینہ حتمی خریداری معاہدے یا ادا شدہ قیمت کے مترادف نہیں۔
موجودہ اسکینر کی حالیہ تکنیکی خرابی سے کم از کم دس روز کام متاثر رہا تھا۔ متعلقہ ٹیم نے جانچ اور معیار کے مراحل کے بعد اس کی کارکردگی بحال کی۔ ڈاکٹر محمود کے مطابق جمعے کو بائیس اسکین کیے گئے۔ عارضی بندش نے ان مریضوں کی مشکلات بڑھائیں جو نجی شعبے میں مہنگا معائنہ نہیں کراسکتے۔
اسپتال میں اس معائنے کی سہولت پیشنٹس ایڈ فاؤنڈیشن اور حکومت کے اشتراک سے چلائی جاتی ہے۔ دوسرے صوبوں سے آنے والے مریض بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق بڑھتی طلب پوری کرنے کے لیے مالی سال دو ہزار ستائیس اٹھائیس تک سالانہ سات ہزار مفت اسکین کی گنجائش کا ہدف رکھا گیا ہے۔
ڈاکٹر محمود نے بتایا کہ آٹھ سو ستانوے مریض انتظار کی فہرست میں ہیں۔ ان میں علاج شروع کرنے سے پہلے معائنہ کرانے والے افراد کے علاوہ علاج کے بعد یا دوران دوبارہ جانچ کے منتظر مریض بھی شامل ہیں۔ نئی مشین کا مقصد موجودہ سہولت پر دباؤ کم کرنا ہے، تاہم خریداری، تنصیب اور مستقل آپریشن کے لیے وسائل کی فراہمی ضروری ہوگی۔
