چنیوٹ میں سادہ لباس میں ایک گھر پر چھاپہ مارنے کے واقعے کے بعد رجوعہ پولیس اسٹیشن کے تین اہلکاروں کو معطل کر کے محکمانہ انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔ ڈان کی 8 نومبر کی رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نوید عاطف نے کانسٹیبلز شاہزیب، عقیل اور احسان کے خلاف کارروائی اس وقت کی جب واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی۔ ڈی پی او نے ایس پی محمد افضل کو معاملے کی تحقیقات کی ذمہ داری سونپی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ وائرل ویڈیو میں مذکورہ پولیس اہلکاروں کو کھیتوں میں بعض خواتین کے ساتھ جھگڑے کی صورتحال میں دیکھا گیا، جبکہ پولیس اہلکار مبینہ طور پر نامناسب زبان بھی استعمال کر رہے تھے۔ بعد میں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق رجوعہ تھانے کے اہلکار چک 130 جے بی میں بعض مشتبہ افراد کی گرفتاری کیلئے گئے تھے، تاہم وہ وردی کے بجائے سادہ لباس میں تھے۔ خواتین نے انہیں مبینہ طور پر ڈاکو سمجھ کر مزاحمت کی اور جھگڑے کے دوران ان کے کپڑے بھی پھٹ گئے۔
ویڈیو کے عام ہونے کے بعد ضلعی پولیس سربراہ نے واقعے کا نوٹس لیا اور تینوں اہلکاروں کو سروس سے معطل کرتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا۔ معطلی ایک انتظامی اور تادیبی اقدام ہے اور اس سے کسی اہلکار کے خلاف حتمی محکمانہ جرم ثابت نہیں ہوتا۔ انکوائری میں یہ جانچا جائے گا کہ چھاپے کے دوران مقررہ پولیس طریقہ کار پر عمل کیا گیا یا نہیں، سادہ لباس میں کارروائی کی ضرورت اور اجازت کیا تھی، اور موقع پر پیش آنے والے تنازع میں کس فریق کا کیا کردار تھا۔
واقعہ پولیس کارروائیوں میں شناخت، طریقۂ کار اور شہریوں کے ساتھ رابطے کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے، خصوصاً ایسے حالات میں جب اہلکار وردی کے بغیر کسی رہائشی علاقے میں گرفتاری کیلئے پہنچیں۔ ڈان کی رپورٹ میں انکوائری کے حتمی نتائج یا کسی باقاعدہ محکمانہ سزا کی تفصیل نہیں دی گئی؛ اس لئے تینوں اہلکاروں سے متعلق معاملہ فی الحال معطلی اور تحقیقات کے مرحلے میں ہے۔ پولیس انکوائری مکمل ہونے کے بعد ہی ذمہ داری اور ممکنہ مزید کارروائی کا تعین ہوگا۔
