پاکستان کے 97 منتخب اضلاع میں جاری ایک ہفتے کی ذیلی قومی انسداد پولیو مہم 8 نومبر کو مکمل ہوگئی، جس کے دوران تقریباً دو کروڑ 40 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔ قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق مہم میں دو لاکھ سے زیادہ فرنٹ لائن پولیو ورکرز شریک ہوئے، جنہوں نے مختلف علاقوں میں گھر گھر جا کر بچوں تک ویکسین پہنچانے کی کوشش کی۔

قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے مہم کے اختتام پر بتایا کہ ملک میں رواں سال اب تک پولیو کے نو کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ ادارے نے خبردار کیا کہ وائرس کا خطرہ بدستور موجود ہے اور بچوں کو مکمل ویکسینیشن فراہم کرنا بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے بنیادی ضرورت ہے۔ پولیو ایک ایسی بیماری ہے جس کا کوئی علاج نہیں اور اس سے ہونے والی عمر بھر کی معذوری سے بچاؤ کیلئے ویکسین کو مؤثر ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔

ذیلی قومی مہم کا دائرہ پورے ملک کے بجائے ان 97 اضلاع تک محدود تھا جنہیں پروگرام نے اس مرحلے کیلئے منتخب کیا۔ اتنی بڑی تعداد میں بچوں تک رسائی کیلئے فرنٹ لائن کارکنوں کی تعیناتی، ویکسین کی فراہمی اور مقامی سطح پر ٹیموں کی نقل و حرکت مہم کے اہم عملی حصے تھے۔ حکام نے والدین اور سرپرستوں سے کہا ہے کہ وہ ہر مہم میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں، خواہ بچے پہلے بھی ویکسین لے چکے ہوں۔

پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششیں وائرس کی مسلسل موجودگی کے باعث جاری ہیں۔ مہم میں تقریباً دو کروڑ 40 لاکھ بچوں کی ویکسینیشن کا عدد قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کی جانب سے فراہم کردہ ابتدائی مجموعی رپورٹ پر مبنی ہے۔ کسی بھی مہم کی حتمی مؤثریت صرف دی گئی خوراکوں کی تعداد سے نہیں بلکہ رہ جانے والے بچوں تک بعد کی رسائی، ماحولیاتی نگرانی، کیسز کی تعداد اور وائرس کی ترسیل کے رجحان سے بھی جانچی جاتی ہے۔ حکام نے اسی لیے معمول کی حفاظتی ویکسینیشن اور آئندہ انسداد پولیو مہمات میں مسلسل تعاون پر زور دیا ہے۔