راولپنڈی: پنجاب حکومت نے صوبے میں نئی قائم ہونے والی چھتیس واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسیوں کے قیام اور ابتدائی کام کے لیے دو ارب روپے کی منظوری دی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی آٹھ نومبر کی رپورٹ کے مطابق محکمہ خزانہ نے مالی سال دو ہزار چھبیس ستائیس میں رقم کی فراہمی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔

یہ رقم تکنیکی ضمنی گرانٹ کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔ رپورٹ میں اسے نئی ایجنسیوں کی فوری مالی ضروریات کے لیے ابتدائی مدد قرار دیا گیا ہے۔ منظوری کو اداروں کے تمام اخراجات پورے ہونے یا ان کی مالی مشکلات مستقل طور پر ختم ہونے کا اعلان نہیں سمجھا جاسکتا۔

رپورٹ کے مطابق ہر نئی ایجنسی کے لیے فوری طور پر بیس کروڑ روپے درکار تھے، لیکن دستیاب وسائل محدود ہونے کے باعث نسبتاً کم رقم منظور ہوئی ہے۔ بیشتر ایجنسیوں کے لیے پانچ کروڑ سڑسٹھ لاکھ دس ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں۔ تلہ گنگ، تونسہ اور کوٹ ادو کی ایجنسیوں کے لیے نسبتاً چھوٹی رقوم رکھی گئی ہیں۔

رقم حاصل کرنے والے اداروں میں بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، حافظ آباد، جھنگ، جہلم، اوکاڑہ، رحیم یار خان، ساہیوال، سرگودھا، سیالکوٹ، گجرات اور شیخوپورہ کی نئی ایجنسیاں شامل ہیں۔ مری، اٹک، چکوال، قصور اور دوسرے اضلاع کے ادارے بھی اس انتظام کے دائرے میں آتے ہیں۔

خبر میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ ضروری فنڈ بروقت جاری نہ ہونے سے اداروں کو مزید مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اس لیے موجودہ گرانٹ کو ابتدائی مالی سہارا قرار دیا گیا ہے۔ عوامی خدمات میں عملی بہتری کا اندازہ متعلقہ ایجنسیوں کے کام، وسائل کے استعمال اور پانی و صفائی کے انتظامات سے ہوگا؛ موجودہ رپورٹ کسی شہر میں نئی سروس مکمل فعال ہونے کی الگ تصدیق نہیں کرتی۔