خیبر پختونخوا کی انتظامیہ نے صوبے میں انسداد دہشت گردی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ’فیس لیس‘ انسداد دہشت گردی عدالتیں قائم کرنے، پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی تکنیکی و عملی صلاحیت بڑھانے اور حساس علاقوں میں سکیورٹی انفراسٹرکچر بہتر بنانے کے اقدامات کی تفصیل پیش کی ہے۔ ڈان کے مطابق 8 نومبر کو ایک بریفنگ میں صوبائی سیکریٹری داخلہ امجد علی خان نے بتایا کہ مجوزہ عدالتی انتظام کا مقصد دہشت گردی کے مقدمات میں گواہوں کے ساتھ پراسیکیوٹرز اور ججوں کی شناخت اور سلامتی کو تحفظ دینا ہے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے متعلقہ ترمیم بھیجی جا چکی ہے۔
بریفنگ میں خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی بھی موجود تھے۔ سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ دہشت گردی کے مقدمات میں گواہوں کے سامنے آنے سے ہچکچانے کی ایک اہم وجہ شناخت ظاہر ہونے کا خوف ہے، اسی لیے ایسا عدالتی طریقہ متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے جس میں متعلقہ افراد کی حفاظت بہتر بنائی جا سکے۔ یہ ابھی ایک منصوبہ اور قانونی عمل کا حصہ ہے؛ اسے قائم شدہ عدالتی نظام کے طور پر بیان نہیں کیا گیا۔
صوبائی حکام نے پولیس میں دس ہزار سے زیادہ اہلکاروں کی کمی، ضم شدہ اضلاع میں سکیورٹی انفراسٹرکچر کی محدود دستیابی اور جدید خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں خلا کی نشاندہی بھی کی۔ بریفنگ کے مطابق ڈی آئی خان، لکی مروت اور بنوں میں اینٹی ڈرون نظام، دس اضلاع میں ڈسٹرکٹ نرو سینٹرز، حساس تھانوں اور چوکیوں کی مضبوطی اور سیف سٹی منصوبے کی توسیع جیسے اقدامات زیر منصوبہ ہیں۔ حکام نے سیٹلائٹ مواصلاتی نظام، جدید تربیت اور نگرانی کی صلاحیت میں اضافے کا بھی ذکر کیا۔
مالی منصوبے کے تحت پولیس اور سی ٹی ڈی پر مجموعی طور پر سالانہ 70 ارب روپے خرچ کرنے کی بات کی گئی۔ حکام کے مطابق پولیس کے لیے 59.8 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں، جن میں 33.4 ارب انفراسٹرکچر اور 26.4 ارب خریداری کے لیے ہوں گے۔ سی ٹی ڈی کے لیے 10.3 ارب روپے کی رقم بتائی گئی، جس میں 5.4 ارب انفراسٹرکچر اور 4.9 ارب خریداری کے لیے مختص کیے جانے ہیں۔
بریفنگ میں انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں بڑھانے، علاقوں کی کلیئرنس، دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی اور فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی دوبارہ تصدیق کا بھی ذکر کیا گیا۔ ساتھ ہی عوامی رابطے، قبائلی رابطہ کمیٹیوں اور جرگوں کے ذریعے کمیونٹی کی شمولیت بڑھانے کی تجویز پیش کی گئی۔ گورنر کنڈی نے پولیس کو دہشت گردی کے خلاف محاذ پر بنیادی قوت قرار دیتے ہوئے اس کے لیے ہتھیار، گولہ بارود اور دیگر وسائل بہتر بنانے پر زور دیا۔ یہ تمام نکات صوبائی حکام کی پیش کردہ پالیسی اور منصوبہ بندی ہیں، جن کے عملی نفاذ اور قانونی مراحل کی پیش رفت الگ طور پر دیکھی جائے گی۔
