لاہور: لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد راحیل کامران شیخ نے اپنے عدالتی عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ 3 ستمبر کو صدر مملکت کے نام لکھے گئے استعفے میں انہوں نے کہا کہ وہ لاہور ہائیکورٹ کے جج کے منصب سے فوری طور پر الگ ہو رہے ہیں۔ استعفے کی ایک نقل لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار کو بھی ارسال کی گئی۔

دستیاب استعفے کے مطابق جسٹس راحیل کامران شیخ نے عدالتی منصب پر خدمات انجام دینے کو اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے حلف اور ضمیر کے مطابق نظام انصاف میں کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے بینچ پر گزارے گئے برسوں کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا اہم اور بامعنی دور قرار دیا۔

استعفے میں انہوں نے اپنے آئندہ پیشہ ورانہ راستے کی وضاحت بھی کی۔ ان کے مطابق طویل غور و فکر کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ایک قانون دان کی حیثیت سے مزید علمی ترقی اور قانون کی حکمرانی و انصاف تک رسائی کے لیے کردار ادا کرنے کی غرض سے قانونی اسکالرشپ، پالیسی ریسرچ اور تقابلی عدالتی مطالعے میں وسیع تر شمولیت زیادہ موزوں ہوگی۔ انہوں نے بینچ کے سینئر ساتھیوں اور اپنے عملے کا بھی شکریہ ادا کیا۔

جسٹس راحیل کامران شیخ نے اپنے خط میں آئین اور قانون کی حکمرانی سے وابستگی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ خبر میں ان کے استعفے کو ایک مکمل شدہ انتظامی اقدام کے طور پر رپورٹ کیا جا رہا ہے؛ اس کے پس منظر سے متعلق ایسی کوئی وجہ شامل نہیں کی جا رہی جو خود استعفے یا قابل اعتماد دستیاب رپورٹنگ میں بیان نہ ہوئی ہو۔

وہ مئی 2021 میں لاہور ہائیکورٹ کے جج مقرر ہوئے تھے۔ عدالتی تقرری سے قبل وہ پاکستان بار کونسل کے رکن بھی رہ چکے تھے۔ ان کا قانونی کیریئر عدالتی اداروں، بار اور آئینی و عدالتی نظم سے متعلق امور سے وابستہ رہا ہے۔

استعفے کے بعد لاہور ہائیکورٹ میں ججوں کی دستیاب تعداد اور آئندہ تقرریوں کے عمل پر انتظامی اثر پڑ سکتا ہے، تاہم اس بارے میں متعلقہ آئینی اداروں کی جانب سے جو بھی باضابطہ پیش رفت ہوگی وہ الگ مرحلہ ہوگی۔ فی الحال مصدقہ پیش رفت یہی ہے کہ جسٹس محمد راحیل کامران شیخ نے صدر مملکت کو تحریری استعفیٰ دے کر فوری طور پر عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔