لاہور: لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد راحیل کامران شیخ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ 3 ستمبر کو صدرِ مملکت کے نام لکھے گئے استعفیٰ میں انہوں نے کہا کہ وہ ہائیکورٹ کے جج کی حیثیت سے اپنا منصب چھوڑ رہے ہیں، تاہم آئین، قانون کی حکمرانی اور انصاف کے اصولوں سے ان کی وابستگی برقرار رہے گی۔
دستیاب رپورٹ کے مطابق جسٹس راحیل کامران شیخ مئی 2021 میں لاہور ہائیکورٹ کے جج مقرر ہوئے تھے اور معمول کے عدالتی شیڈول کے مطابق ان کی ریٹائرمنٹ 2036 میں متوقع تھی۔ اس اعتبار سے ان کا استعفیٰ مقررہ مدت سے خاصا پہلے سامنے آیا ہے۔ استعفے کے متن میں ان کے فیصلے کی بنیادی وجہ کے بارے میں تفصیلی عوامی وضاحت سامنے نہیں آئی، اس لیے اس معاملے میں کسی غیر مصدقہ سبب کو حتمی حقیقت کے طور پر بیان کرنا درست نہیں ہوگا۔
پاکستان میں اعلیٰ عدلیہ کے جج کا استعفیٰ آئینی اور ادارہ جاتی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ہائیکورٹس بنیادی حقوق، انتظامی فیصلوں، فوجداری و دیوانی مقدمات اور آئینی تنازعات میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ کسی جج کے منصب چھوڑنے سے متعلق قانونی کارروائی آئین اور متعلقہ سرکاری طریقہ کار کے مطابق آگے بڑھتی ہے اور خالی ہونے والی نشست کے لیے بعد میں تقرری کا الگ آئینی عمل ہوتا ہے۔
جسٹس راحیل کامران شیخ نے اپنے خط میں عدالتی ذمہ داریوں کے دوران حاصل ہونے والے تجربے اور قانون سے وابستگی کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بینچ چھوڑنے کے باوجود آئین اور قانون کی بالادستی کے اصول ان کے لیے اہم رہیں گے۔
استعفے کی خبر عدالتی حلقوں میں اس لیے نمایاں ہے کہ یہ لاہور ہائیکورٹ کی موجودہ تشکیل پر فوری اثر ڈالتی ہے۔ تاہم استعفے کے محرکات کے بارے میں قیاس آرائی کے بجائے دستیاب تحریری ریکارڈ اور سرکاری پیش رفت کو بنیاد بنانا ضروری ہے۔ صدرِ مملکت یا متعلقہ اداروں کی جانب سے آئندہ جاری ہونے والی باضابطہ اطلاع سے استعفے کے انتظامی نفاذ اور خالی آسامی سے متعلق مزید صورتِ حال واضح ہو گی۔




