اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کچھی کینال فیز ٹو کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو تعمیراتی معیار پر سختی سے عمل کرنے اور منصوبے کے ہر مرحلے میں معیار کی نگرانی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے دستیاب آپشنز پر حکومت بلوچستان کو مکمل طور پر اعتماد میں لیا جائے۔
یہ ہدایات ایک اجلاس میں دی گئیں جس میں کچھی کینال کے علاوہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے لیے درکار زمین، علامہ اقبال میموریل اور اقبال لائبریری منصوبے، اور لورالائی سے ژوب کو ملانے والی 35 کلومیٹر سڑک کی تکمیل میں تاخیر سمیت مختلف ترقیاتی امور زیر غور آئے۔
کچھی کینال بلوچستان کے زرعی اور آبی ڈھانچے سے متعلق اہم منصوبوں میں شمار ہوتی ہے۔ ایسے نہری منصوبوں میں تعمیراتی معیار، پانی کی ترسیل کی صلاحیت، ڈھانچے کی پائیداری اور مقامی ضروریات کے مطابق عمل درآمد طویل مدتی نتائج کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ وفاقی وزیر کی ہدایت اسی لیے صرف کام کی رفتار نہیں بلکہ معیار اور صوبائی رابطے پر بھی مرکوز رہی۔
سرکاری بیان کے مطابق احسن اقبال نے متعلقہ اداروں کو تاکید کی کہ بلوچستان حکومت کو تمام دستیاب راستوں اور فیصلوں میں شامل رکھا جائے تاکہ منصوبہ مؤثر، شفاف اور مربوط انداز میں آگے بڑھے۔ وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان ہم آہنگی خاص طور پر ان منصوبوں میں ضروری ہوتی ہے جن کے زمینی، آبی اور انتظامی اثرات صوبائی سطح پر براہ راست پڑتے ہیں۔
اجلاس میں لورالائی-ژوب 35 کلومیٹر سڑک میں تاخیر کا بھی جائزہ لیا گیا اور وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق بروقت تکمیل کے لیے اقدامات پر غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ تعلیمی و یادگاری منصوبوں کے لیے زمین اور دیگر انتظامی معاملات زیر بحث آئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اجلاس ایک سے زیادہ ترقیاتی منصوبوں کی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے منعقد ہوا تھا۔
کچھی کینال فیز ٹو کے بارے میں جاری سرکاری بیان میں اس اجلاس کے نتیجے میں کوئی نئی حتمی تکمیل تاریخ یا نظرثانی شدہ مجموعی لاگت جاری نہیں کی گئی۔ اس لیے موجودہ خبر کا مصدقہ مرکزی نکتہ منصوبے کے معیار، شفافیت اور وفاقی-صوبائی رابطے کے لیے نئی انتظامی ہدایات ہیں۔ عملی پیش رفت کا اگلا جائزہ تعمیراتی کام، مالی استعمال اور مقررہ اہداف کی تکمیل کے تازہ اعداد سے کیا جا سکے گا۔




