لاہور: پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی فاسٹ بولر کائنات امتیاز نے اتوار 4 اکتوبر کو بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق کائنات نے قومی ٹیم کی جانب سے 19 ایک روزہ اور 21 ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی میچ کھیلے اور اب وہ کھیل کے ایک نئے مرحلے میں میچ آفیشیٹنگ سے بھی وابستہ ہو رہی ہیں۔
کائنات امتیاز نے اکتوبر 2010 میں جنوبی افریقہ کے خلاف پوچیفسٹروم میں اپنا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ڈیبیو کیا تھا۔ بعد میں انہوں نے بنگلہ دیش کے شہر فتح اللہ میں آئرلینڈ کے خلاف ون ڈے کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کا آغاز کیا۔ ان کا بین الاقوامی کیریئر ایک دہائی سے زیادہ عرصے پر محیط رہا اور وہ مختلف عالمی اور علاقائی مقابلوں میں قومی اسکواڈ کا حصہ رہیں۔
جیو نیوز کے مطابق کائنات نے 2017 کے آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی اور ٹورنامنٹ کے چار میچوں میں حصہ لیا۔ وہ 2010 اور 2014 کے ایشین گیمز میں طلائی تمغہ جیتنے والی پاکستانی ویمنز ٹیموں کا بھی حصہ تھیں، جبکہ 2022 کے کامن ویلتھ گیمز کے لیے منتخب قومی اسکواڈ میں بھی شامل رہیں۔
ان کی آخری ون ڈے پیشی جنوری 2023 میں آسٹریلیا کے خلاف گابا میں ہوئی، جبکہ آخری ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل اکتوبر 2022 میں تھائی لینڈ کے خلاف سلہٹ میں کھیلا گیا۔ کائنات کا کرکٹ سفر فروری 2007 میں کراچی اسکولز انڈر 17 ٹیم سے شروع ہوا تھا، جس کے بعد انہوں نے مقامی سطح پر لسٹ اے اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں جگہ بنائی اور بالآخر قومی ٹیم تک پہنچیں۔
پی سی بی اور جیو نیوز کی رپورٹس کے مطابق کائنات نے حال ہی میں میچ ریفری کے طور پر بھی کام شروع کیا ہے اور اگست و ستمبر میں ہونے والے پی سی بی نیشنل ویمنز انڈر 19 ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں اس حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دیں۔ یوں ان کی ریٹائرمنٹ مکمل طور پر کرکٹ سے علیحدگی نہیں بلکہ کھیل کے انتظامی اور آفیشیٹنگ شعبے میں منتقلی کے طور پر بھی دیکھی جا رہی ہے۔
کائنات امتیاز کی والدہ سلیمہ امتیاز بھی ویمنز کرکٹ آفیشیٹنگ سے وابستہ ہیں اور 2024 میں آئی سی سی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ پینل میں شامل ہونے والی پہلی پاکستانی خاتون امپائر بنی تھیں۔ کائنات کی ریٹائرمنٹ پاکستان ویمنز کرکٹ میں ایک طویل بین الاقوامی دور کے اختتام کے ساتھ ساتھ کھیل میں ان کے ممکنہ نئے کردار کا آغاز بھی ہے۔
