آئنڈہوون: نیدرلینڈز کے کوچ ژاوی ہرنانڈیز نے فیفا کے نئے توسیع شدہ بین الاقوامی شیڈول پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مختصر مدت میں چار نیشنز لیگ میچ کھیلنا قومی ٹیموں اور کھلاڑیوں کو ریلیز کرنے والے کلبوں دونوں کے لیے خطرات بڑھاتا ہے۔ موجودہ فارمیٹ میں ستمبر اور اکتوبر کی دو الگ ونڈوز کو ملا کر 16 روزہ بلاک بنایا گیا ہے۔
ژاوی کے مطابق نیدرلینڈز کو 11 دن میں چار میچ کھیلنے پڑ رہے ہیں اور اس دوران تربیت، سفر، ریکوری اور مسلسل مقابلوں کا دباؤ کھلاڑیوں کی جسمانی حالت پر اثر ڈال رہا ہے۔ انہوں نے سربیا کے خلاف میچ سے پہلے بتایا کہ برائن بروبی، لوتشارل گیرٹروئڈا، کوڈی خاکپو اور یان پال فان ہیکے سمیت کئی کھلاڑی زخمی ہو کر اپنے کلبوں کو واپس جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ کے صرف چند ماہ بعد اتنا بھرا ہوا شیڈول رکھنا مشکلات کو دعوت دیتا ہے۔ ژاوی نے حکام سے فارمیٹ کا دوبارہ جائزہ لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ نو دن میں دو بین الاقوامی میچوں والی سابقہ ترتیب کو ترجیح دیں گے۔
یہ تحفظات صرف نیدرلینڈز تک محدود نہیں۔ جرمنی کے کوچ یورگن کلوپ، انگلینڈ کے تھامس ٹوخل اور اسپین کے لوئس دے لا فوینتے بھی نئے شیڈول پر سوال اٹھا چکے ہیں۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ قومی اور کلب فٹبال کے درمیان تربیتی انداز، سفر اور میچوں کی کثرت پہلے ہی جسمانی دباؤ بڑھاتی ہے اور چار میچوں کا مسلسل بلاک خطرہ مزید بڑھا سکتا ہے۔
نومبر، مارچ اور جون کی اگلی بین الاقوامی ونڈوز دوبارہ روایتی نو روزہ اور دو میچوں کے فارمیٹ میں ہوں گی، تاہم فیفا نے ستمبر اور اکتوبر کی مشترکہ 16 روزہ ونڈو کو 2030 تک شیڈول کر رکھا ہے۔ فی الحال ژاوی اور دیگر کوچز کی تنقید نے کھلاڑیوں کی فلاح، کلبوں کے مفادات اور قومی ٹیموں کے مقابلہ جاتی تقاضوں کے درمیان توازن پر بحث کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔
