ناگویا: پاکستان کی مردوں کی والی بال ٹیم نے ایشین گیمز میں چین کو 3-0 سے شکست دے کر کانسی کا تمغہ حاصل کرلیا۔ ایک گھنٹہ سات منٹ جاری رہنے والے مقابلے میں پاکستان نے تینوں سیٹس 25-18، 25-16 اور 25-18 سے جیتے۔ یہ ایشین گیمز والی بال میں پاکستان کا 1962 کے بعد پہلا تمغہ ہے۔
اوکازاکی چوؤ سوگو پارک جمنازیم میں کھیلے گئے کانسی کے تمغے کے میچ میں پاکستان نے ابتدا ہی سے سرو اور اٹیک میں دباؤ برقرار رکھا۔ مجموعی پوائنٹس میں پاکستان 75 کے مقابلے میں 52 سے آگے رہا۔ چینی ٹیم پاکستانی اٹیک کی رفتار اور نیٹ پر دفاع کا مؤثر جواب نہ دے سکی۔
حملے کے اعدادوشمار میں پاکستان نے 72 اسپائک کوششوں میں 46 کامیاب پوائنٹس حاصل کیے، یعنی کامیابی کی شرح تقریباً 64 فیصد رہی۔ اس کے مقابلے میں چین نے 70 کوششوں میں 27 کامیاب اسپائکس کیے اور اس کی شرح 39 فیصد رہی۔ نیٹ پر پاکستان نے 13 بلاک پوائنٹس بنائے جبکہ چین صرف دو بلاک پوائنٹس حاصل کرسکا۔
دفاعی کھیل میں بھی پاکستانی ٹیم کو برتری حاصل رہی۔ پاکستان نے 13 ڈگز ریکارڈ کیے جبکہ چین نے نو۔ میچ کے دوران دونوں ٹیموں کی غلطیوں نے بھی اسکور پر اثر ڈالا، تاہم پاکستان نے تینوں سیٹس میں واضح فرق کے ساتھ برتری قائم رکھی اور کسی مرحلے پر میچ کو فیصلہ کن چوتھے سیٹ تک جانے نہیں دیا۔
اس کامیابی کی تاریخی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ پاکستان نے ایشین گیمز میں مردوں کی والی بال کا تمغہ 64 برس کے وقفے کے بعد حاصل کیا۔ 1962 کے بعد قومی ٹیم ایشین گیمز کے والی بال پوڈیم تک نہیں پہنچ سکی تھی۔ ناگویا میں چین کے خلاف سیدھے سیٹس کی فتح نے یہ طویل انتظار ختم کردیا۔
پاکستانی دستے کے لیے یہ کانسی کا تمغہ ایک ایسے مقابلے میں آیا جس میں ٹیم نے اٹیک، بلاک اور دفاع تینوں شعبوں میں اعدادوشمار کے اعتبار سے چین پر واضح سبقت دکھائی۔ حتمی اسکور 3-0 رہا اور پاکستان نے کانسی کے تمغے کے ساتھ اپنی ایشین گیمز مہم مکمل کی۔
