پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ، آئی ایس پی آر، نے کہا ہے کہ بلوچستان کے ضلع قلات میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے گئے آپریشن میں 12 دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔ فوجی بیان کے مطابق کارروائی بدھ، 2 ستمبر 2026 کو علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی، جبکہ اس کے نتائج کا اعلان جمعہ، 4 ستمبر کو کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے پہلے مشتبہ ٹھکانے کی نشاندہی کی، اس کی نگرانی کی اور پھر فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے ختم کیا۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مارے گئے افراد کا تعلق ریاست کی جانب سے ’’فتنہ الہندوستان‘‘ قرار دیے گئے گروہوں سے تھا۔ پاکستان اس اصطلاح کو بلوچستان میں سرگرم بعض مسلح تنظیموں کے لیے استعمال کرتا ہے اور ان کی مبینہ بیرونی سرپرستی کا الزام بھارت پر عائد کرتا ہے۔ یہ الزام پاکستانی فوجی بیان کا حصہ ہے؛ بھارت ایسے الزامات کی عمومی طور پر تردید کرتا رہا ہے۔
فوجی ترجمان نے بتایا کہ آپریشن کے دوران وہاں موجود گولہ بارود اور دیسی ساختہ دھماکا خیز آلات بھی موقع پر تباہ کیے گئے۔ بیان میں کسی سکیورٹی اہلکار کے جانی نقصان کا ذکر نہیں کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی کے بعد علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری رکھا گیا تاکہ کسی دوسرے مسلح فرد کی موجودگی کو خارج کیا جا سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے انسدادِ دہشت گردی کی قومی مہم ’’عزمِ استحکام‘‘ کے تحت کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ حکام کے مطابق اس مہم کا مقصد ملک میں منظم مسلح تشدد اور بیرونی معاونت سے چلنے والی دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہے۔
قلات بلوچستان کے ان اضلاع میں شامل ہے جہاں ماضی میں بھی سکیورٹی فورسز نے خفیہ معلومات پر کارروائیاں کی ہیں۔ تاہم ہر آپریشن کے بارے میں ہلاکتوں، شناخت اور وابستگی کی تفصیلات عموماً سرکاری بیان سے سامنے آتی ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر ممکن نہیں ہوتی۔ موجودہ واقعے میں بھی 12 ہلاکتوں اور تباہ کیے گئے مواد کی تفصیلات آئی ایس پی آر کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہیں۔
واقعے کی خبر سامنے آنے کے بعد حکام نے کسی گرفتاری، شہری نقصان یا برآمد شدہ مواد کو تحویل میں لینے کی الگ تفصیل جاری نہیں کی۔ اس لیے دستیاب تصدیق شدہ معلومات یہی ہیں کہ فوجی میڈیا ونگ نے قلات میں 2 ستمبر کی کارروائی، 12 مبینہ دہشت گردوں کی ہلاکت اور گولہ بارود و آئی ای ڈیز کی تباہی کی تصدیق کی ہے، جبکہ علاقے میں بعد از کارروائی تلاشی جاری رکھنے کا بتایا گیا ہے۔




