کوئٹہ: پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ، آئی ایس پی آر، نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع قلات میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 12 مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ 4 ستمبر کو جاری فوجی بیان کے مطابق کارروائی بدھ 2 ستمبر کو علاقے میں مسلح افراد کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی۔ آپریشن اور ہلاکتوں کی تفصیل سرکاری فوجی بیان پر مبنی ہے اور موقع سے آزاد ذرائع کی تصدیق فوری طور پر دستیاب نہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فورسز نے مبینہ ٹھکانے کی نشاندہی اور نگرانی کے بعد محدود اور فوری کارروائی کی۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹھکانے میں موجود تمام 12 افراد فائرنگ یا کارروائی کے دوران مارے گئے۔ فوج نے انہیں ریاست کی جانب سے بلوچستان میں سرگرم بعض مسلح گروہوں کے لیے استعمال کی جانے والی اصطلاح ”فتنہ الہندوستان“ سے منسوب کیا۔ کسی ہلاک شخص کا نام، مخصوص تنظیمی وابستگی یا شناختی تفصیل جاری بیان میں فراہم نہیں کی گئی۔
فوجی ترجمان نے مزید کہا کہ جائے وقوع پر موجود گولہ بارود اور دیسی ساختہ دھماکا خیز آلات کا ذخیرہ بھی تباہ کر دیا گیا۔ بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ برآمد یا تلف کیے گئے ہتھیاروں اور آئی ای ڈیز کی تعداد، نوعیت اور ممکنہ اہداف کیا تھے۔ ان تفصیلات کی عدم موجودگی میں ذخیرے کی وسعت یا کسی مجوزہ حملے سے تعلق کے بارے میں مزید نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
آئی ایس پی آر نے الزام لگایا کہ مارے گئے افراد کو بھارت کی سرپرستی حاصل تھی۔ پاکستان کی ریاست بلوچستان میں بعض مسلح تنظیموں کے لیے ”فتنہ الہندوستان“ کی اصطلاح استعمال کرتی ہے تاکہ مبینہ بھارتی معاونت کو نمایاں کیا جا سکے۔ اس مخصوص کارروائی سے متعلق بیان میں اس الزام کے ثبوت عوام کے سامنے پیش نہیں کیے گئے اور نہ ہی فوری طور پر کسی بھارتی ردعمل کا ذکر سامنے آیا؛ اس لیے غیر ملکی سرپرستی کو پاکستانی فوج کا دعویٰ سمجھا جائے گا، آزاد طور پر ثابت شدہ نتیجہ نہیں۔
فوج نے کہا کہ علاقے میں مزید کسی مسلح فرد کی موجودگی جانچنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔ اس مرحلے کا مطلب یہ ہے کہ ابتدائی جھڑپ کے بعد سرچ اور کلیئرنس کا عمل مکمل نہیں ہوا تھا۔ کسی سیکیورٹی اہلکار یا شہری کے جانی نقصان کی اطلاع فوجی بیان میں نہیں دی گئی۔ بعد کی سرکاری اپ ڈیٹ آنے کی صورت میں مجموعی صورتِ حال اور شناختی معلومات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
قلات کی کارروائی بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی اور جوابی آپریشنز کے سلسلے کے دوران سامنے آئی۔ 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب پشین میں کسٹمز ہاؤس پر حملے اور فائرنگ کے تبادلے میں چھ سیکیورٹی اہلکاروں سمیت جانی نقصان ہوا تھا، جبکہ فوج نے حملہ آوروں کی ہلاکتوں کی بھی اطلاع دی۔ 31 اگست کو کوئٹہ تفتان شاہراہ پر مبینہ غیر قانونی ناکے کے خلاف ایک الگ کارروائی بھی رپورٹ ہوئی۔ یہ الگ واقعات ہیں اور قلات کے 2 ستمبر آپریشن کی ہلاکتوں میں شامل نہیں۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسدادِ دہشت گردی مہم ”عزمِ استحکام“ کے تحت جاری رہے گی۔ قلات آپریشن سے متعلق فی الحال حتمی طور پر دستیاب سرکاری اطلاع 12 مبینہ دہشت گردوں کی ہلاکت، ٹھکانے اور دھماکا خیز مواد کی تباہی، اور بعد کی کلیئرنس کارروائی تک محدود ہے۔ شناخت، کسی مقدمے سے تعلق اور برآمد مواد کی مکمل تفصیل مزید باضابطہ معلومات سے ہی واضح ہوگی۔




