بلوچستان کے ضلع قلات کے قریب قومی شاہراہ این 25 پر سکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران 23 مغوی افراد کو بازیاب کرایا جبکہ پانچ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق مسلح افراد نے شاہراہ پر عارضی ناکہ قائم کرکے لوگوں کی آمدورفت میں خلل ڈالنے، مسافروں کو اغوا کرنے اور گاڑیاں چھیننے کی کوشش کی تھی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے صورت حال کی اطلاع ملنے پر علاقے میں کارروائی کی اور دہشت گردوں کے ٹھکانے تک پہنچیں۔ فائرنگ کے تبادلے میں پانچ دہشت گرد مارے گئے اور ان کے قبضے سے اغوا کیے گئے 23 افراد کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے زیر استعمال یا قبضے میں لی گئی گاڑیاں اور اسلحہ برآمد ہوا۔
دستیاب رپورٹوں کے مطابق بازیاب ہونے والی گاڑیوں میں ٹرک، بسیں اور کاریں شامل تھیں۔ حکام نے واقعے کو شاہراہ پر شہری نقل و حرکت کو متاثر کرنے اور لوگوں کو یرغمال بنانے کی کوشش قرار دیا۔ سکیورٹی اداروں نے علاقے میں مزید ممکنہ خطرات کے خاتمے کے لیے سرچ اور کلیئرنس سرگرمیاں بھی جاری رکھیں۔
یہ واقعہ بلوچستان میں اہم بین الاضلاعی اور بین الصوبائی راستوں کی سکیورٹی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ این 25 کراچی کو بلوچستان کے مختلف علاقوں اور چمن کی سمت جانے والے روٹ سے ملانے والی اہم شاہراہ ہے، اس لیے اس پر ٹریفک میں رکاوٹ مسافروں اور مال بردار نقل و حمل دونوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
آئی ایس پی آر نے ہلاک افراد کے بارے میں دہشت گردی سے وابستگی کا دعویٰ کیا ہے۔ اس سرکاری بیان میں استعمال ہونے والی تنظیمی نسبت اور بیرونی سرپرستی سے متعلق دعوے ریاستی مؤقف ہیں؛ دستیاب آزاد ذرائع سے ان دعوؤں کی الگ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ تاہم پانچ ہلاکتوں، 23 افراد کی بازیابی اور شاہراہ پر کارروائی کی بنیادی تفصیلات متعدد پاکستانی خبر رساں اداروں نے آئی ایس پی آر کے حوالے سے رپورٹ کی ہیں۔
