کراچی کی ایک عدالت نے بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مبینہ متحرک ڈیجیٹل مواد سے متعلق مقدمے میں گرفتار 13 افراد کو ریمانڈ پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے حوالے کر دیا ہے۔ تحقیقاتی ادارے کے مطابق ملزمان کو گلستان جوہر میں تین کمپنیوں کے خلاف کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

این سی سی آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ کارروائی کا مقصد ایسے ڈیجیٹل مواد کی تیاری اور ممکنہ تقسیم سے متعلق شواہد حاصل کرنا تھا جس میں بچوں کے جنسی استحصال کی عکاسی کی جاتی ہے۔ یہ الزامات ابھی تفتیش اور عدالتی کارروائی کے مرحلے میں ہیں اور گرفتار افراد کو کسی جرم میں حتمی طور پر قصوروار قرار نہیں دیا گیا۔

عدالت میں پیشی کے دوران تحقیقاتی افسران نے ملزمان کے ریمانڈ کی درخواست کی تاکہ ضبط کیے گئے کمپیوٹرز، ڈیجیٹل فائلوں، اکاؤنٹس اور دیگر ممکنہ شواہد کا فرانزک جائزہ لیا جا سکے۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ملزمان کو مقررہ مدت کے لیے تحقیقاتی ادارے کی تحویل میں دے دیا۔

سائبر کرائم سے متعلق ایسے مقدمات میں ڈیجیٹل فرانزک اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ تفتیش کاروں کو یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ مواد کس نے تیار کیا، کن نظاموں سے اپ لوڈ یا منتقل ہوا اور آیا اس کی فروخت یا تقسیم میں کوئی منظم نیٹ ورک شامل تھا۔ تاہم ہر ضبط شدہ آلے یا اکاؤنٹ کو کسی مخصوص فرد کے مجرمانہ عمل سے جوڑنے کے لیے الگ شواہد درکار ہوتے ہیں۔

بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کے مقدمات حساس نوعیت کے ہوتے ہیں۔ متاثرہ بچوں کی شناخت، تصاویر یا ایسی تفصیلات کی اشاعت سے گریز ضروری ہے جو انہیں مزید نقصان پہنچا سکتی ہوں۔ موجودہ مقدمے میں این سی سی آئی اے کے دعووں کی عدالتی جانچ جاری رہے گی اور ملزمان کو قانون کے تحت دفاع کا حق حاصل ہے۔ ریمانڈ کا حکم تفتیش آگے بڑھانے کی اجازت ہے، اسے سزا یا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔