اسلام آباد میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے ملاقات کی، جس میں پاکستان چین تعلقات، چین پاکستان اقتصادی راہداری اور خطے کی تازہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ حکومت پاکستان کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ملاقات 25 اکتوبر کو ہوئی۔

سرکاری بیان میں کہا گیا کہ اسحاق ڈار نے پاکستان اور چین کے درمیان آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ میں جاری پیش رفت کو سراہا۔ دونوں ملکوں کے تعاون کے جن شعبوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ان میں سی پیک، علاقائی و داخلی رابطہ کاری، تجارت و سرمایہ کاری، زرعی جدیدکاری اور عوامی سطح پر روابط شامل ہیں۔

نائب وزیراعظم نے دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح کے مسلسل رابطوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق ایسے تبادلے پاکستان اور چین کے درمیان نئے دور میں مشترکہ مستقبل کی کمیونٹی کے تصور کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سرکاری بیان میں کسی نئے معاہدے، مالی پیکیج یا مخصوص سی پیک منصوبے کی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے ملاقات کو جاری سفارتی اور اقتصادی رابطے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

ملاقات میں علاقائی حالات پر بھی خیالات کا تبادلہ ہوا۔ دونوں جانب نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مکالمے اور سفارتکاری کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نے علاقائی موضوعات کی تفصیلی فہرست جاری نہیں کی اور نہ ہی کسی مخصوص تنازع پر الگ مشترکہ مؤقف بیان کیا، اس لیے دستیاب سرکاری معلومات سے آگے کسی نتیجے کو منسوب کرنا درست نہیں ہوگا۔

پاکستان اور چین کے دوطرفہ تعلقات میں سی پیک بنیادی اقتصادی فریم ورک کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ حالیہ برسوں میں دونوں حکومتیں زراعت، صنعت، تجارت، سرمایہ کاری اور رابطہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو وسیع کرنے کی بات کرتی رہی ہیں۔ تازہ ملاقات اسی تسلسل کا حصہ ہے اور اس میں عملی تعاون کے موجودہ شعبوں کی پیش رفت کو مثبت قرار دیا گیا۔

ملاقات کی اہمیت اس لحاظ سے بھی ہے کہ پاکستان خطے میں بدلتی سیاسی اور سکیورٹی صورت حال کے دوران چین کے ساتھ اعلیٰ سطح کا رابطہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ تاہم 25 اکتوبر کے سرکاری بیان میں کوئی نئی پالیسی تبدیلی یا قابلِ پیمائش تجارتی ہدف جاری نہیں کیا گیا؛ بنیادی نتیجہ موجودہ شراکت داری کو جاری رکھنے اور علاقائی معاملات میں مکالمے و سفارتکاری کی حمایت کا اعادہ ہے۔