کراچی: ایک سیشن عدالت نے سندھ پولیس اور سیف سٹی حکام کو ہدایت دی ہے کہ نجی بینکوں یا دیگر مالیاتی اداروں کو فنانس شدہ یا نادہندہ گاڑیوں کی شناخت، ٹریسنگ، روکنے یا ریکوری کے لیے نگرانی کے سرکاری نظام سے مدد صرف اس صورت میں دی جائے جب اس کی واضح قانونی بنیاد موجود ہو۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی ارشاد حسین نے یہ ہدایات ایک درخواست نمٹاتے ہوئے جاری کیں جس میں ایک شہری نے نجی بینک حکام کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کی استدعا کی تھی۔ درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ سرکاری نگرانی کے وسائل کو قرض نادہندگان کی گاڑیوں کی تلاش کے لیے استعمال کرنا اس کے نجی زندگی اور ملکیت سے متعلق حقوق کو متاثر کرتا ہے۔ عدالت نے ایف آئی آر کی درخواست مسترد کردی، تاہم پولیس اور سیف سٹی نظام کے استعمال سے متعلق تفصیلی ہدایات جاری کیں۔

عدالت نے سندھ پولیس کے سربراہ کو حکم دیا کہ پولیس نجی بینک یا مالیاتی ادارے کو نادہندہ گاڑیوں کی شناخت، ٹریسنگ، روکنے یا ریکوری میں ایسی مدد فراہم نہ کرے جو قابل اطلاق قانون اور متعلقہ قانونی اختیارات سے باہر ہو۔ ڈی آئی جی انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈی جی سیف سٹی کو بھی ہدایت کی گئی کہ نگرانی، ٹریکنگ یا لوکیشن سے متعلق معلومات کسی مالیاتی ادارے، اس کے فوکل پرسن یا کسی نجی شخص کو صرف قانونی اجازت، مجاز طریقہ کار یا بااختیار اتھارٹی کی منظوری کے تحت دی جائیں۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی نجی بینک کے نمائندے کو پولیس یا سیف سٹی نظام تک آزاد یا غیر محدود رسائی نہیں دی جاسکتی۔ جہاں رابطہ یا معلومات کی فراہمی قانوناً جائز ہو، وہاں بھی یہ عمل مجاز افسر کی نگرانی اور مقررہ حفاظتی ضابطوں کے تحت ہونا چاہیے۔

فیصلے میں یہ وضاحت بھی کی گئی کہ عدالتی ہدایات پولیس کو کسی قابل دست اندازی جرم، قانونی فوجداری تفتیش یا مجاز عدالت و اتھارٹی کی ہدایت کے تحت گاڑی ضبط یا برآمد کرنے سے نہیں روکتیں۔ اسی طرح بینک اپنے واجبات یا فنانس شدہ اثاثے کی ریکوری کے لیے قانون میں دستیاب فورمز سے رجوع کرسکتے ہیں۔

عدالت نے متعلقہ پولیس حکام سے 15 دن میں تعمیلی رپورٹ بھی طلب کی ہے، جس میں بتایا جائے گا کہ ماضی یا موجودہ عمل کے تحت بینکوں کو سیف سٹی یا پولیس وسائل سے گاڑیوں کی ٹریسنگ میں مدد دینے کی قانونی، ضابطہ جاتی یا انتظامی بنیاد کیا ہے۔ عدالت کے مطابق ریکارڈ پر ایسا کوئی واضح قانون، قاعدہ، ایس او پی، ایم او یو یا تفویض شدہ اختیار پیش نہیں کیا گیا جو نجی قرض ریکوری کے لیے سیف سٹی نگرانی کے استعمال کو ازخود جائز قرار دیتا ہو۔