کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ شہر کے صنعتی علاقوں میں ترقیاتی کاموں کے لیے 9 ارب 25 کروڑ روپے منتقل کردیے گئے ہیں اور متعلقہ منصوبے دسمبر تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے صنعت کاروں سے ملاقات میں سڑکوں، بنیادی سہولتوں، آگ بجھانے کے نظام اور صنعتی پانی سے متعلق حکومتی اقدامات کی تفصیل بیان کی۔ رقم کی منتقلی اور تکمیل کا ہدف سرکاری مؤقف ہے؛ ہر منصوبے کی زمینی پیش رفت الگ نگرانی سے واضح ہوگی۔
میئر کے مطابق صنعتی علاقوں میں ترقیاتی کام سرکاری و نجی شراکت کے طریقہ کار کے تحت کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مختص رقم کے بعد بھی ضرورت کے مطابق مزید وسائل دیے جائیں گے۔ کراچی کی صنعت قومی برآمدات، روزگار اور ٹیکس آمدن میں اہم حصہ رکھتی ہے، اس لیے صنعتی سڑکوں، نکاسی، پانی، آگ سے تحفظ اور آمدورفت کی بہتری پیداواری لاگت اور کاروباری تسلسل پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔
آگ سے تحفظ کے بارے میں مرتضیٰ وہاب نے سات ارب روپے کے جدید نظام کا ذکر کیا اور بتایا کہ 17 فائر ٹینڈرز کو دوبارہ فعال کیا جارہا ہے۔ دستیاب رپورٹ یہ نہیں بتاتی کہ سات ارب روپے کی پوری رقم خرچ ہوچکی ہے یا منصوبے کے کس مرحلے کے لیے رکھی گئی ہے، اس لیے اسے مکمل شدہ نظام نہیں کہا جاسکتا۔ قابلِ اعتماد جائزے کے لیے فائر اسٹیشنوں کی کوریج، رسپانس ٹائم، پانی کی دستیابی اور فعال گاڑیوں کی تعداد اہم پیمانے ہوں گے۔
صنعتی پانی کے حوالے سے میئر نے بتایا کہ کراچی کے صنعتی علاقوں کی یومیہ ضرورت تقریباً 15 کروڑ گیلن ہے۔ ہارون آباد میں صنعتی واٹر پارک کو آزمائشی طور پر فعال کیا گیا ہے، جہاں ساڑھے تین کروڑ گیلن ٹریٹڈ پانی مہیا کرنے کی صلاحیت بتائی گئی۔ منصوبے کا باقاعدہ افتتاح ستمبر میں متوقع ہے۔ ٹریٹڈ پانی کا استعمال میٹھے پانی پر دباؤ کم کرسکتا ہے، مگر معیار، ترسیلی نیٹ ورک اور مسلسل فراہمی کی عملی جانچ ضروری ہوگی۔
دسمبر کی تکمیل کی تاریخ انتظامی ہدف ہے، ضمانت نہیں۔ آئندہ مرحلے میں ہر صنعتی زون کے منصوبوں، ٹھیکوں، پیش رفت اور ادائیگیوں کی تفصیل عوامی نگرانی کے لیے اہم رہے گی۔ فی الحال خبر کا مرکزی نکتہ فنڈ کی منتقلی، مقررہ ہدف اور صنعت کاروں کو دی گئی سرکاری یقین دہانی ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




