اسلامی چیمبر آف کامرس اینڈ ڈیولپمنٹ کے سیکرٹری جنرل یوسف حسن خالاوی نے کہا ہے کہ پاکستان جدید شرعی مالی مصنوعات، مضبوط ریگولیٹری فریم ورک اور پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے عالمی اسلامی معیشت میں اپنا حصہ بڑھا سکتا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی ٹاک سیریز میں پاکستان اور عالمی اسلامی مالیات کے مستقبل پر گفتگو کی۔

خالاوی کے مطابق پاکستان کی بڑی مسلم آبادی، بیرونِ ملک وسیع پاکستانی برادری، بڑھتی اسلامی مالی مارکیٹ اور مالی ماہرین کی دستیابی مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے فِن ٹیک جیسے ابھرتے شعبوں میں مقامی اور بین الاقوامی منڈی دونوں کے لیے مصنوعات بنانے پر زور دیا۔ یہ ایک پالیسی اور مارکیٹ امکان کا جائزہ ہے، کسی فوری سرمایہ کاری یا حکومتی ضمانت کا اعلان نہیں۔

گفتگو میں مقاصدِ شریعت کے تحت اسلامی مالیات کو صرف لین دین تک محدود نہ رکھنے اور تعلیم، صحت و بنیادی ڈھانچے جیسے سماجی شعبوں میں شفاف طریقے سے سرمایہ جمع کرنے کے لیے لسٹڈ وقف ڈھانچوں کے امکان کا ذکر ہوا۔ زرعی مالیات کو بھی نسبتاً کم استعمال ہونے والا بڑا موقع قرار دیا گیا، جس کے لیے مخصوص شرعی آلات اور دوہری مالی و شرعی مہارت درکار ہوگی۔ قرضِ حسن اور کم لاگت رسائی میں فِن ٹیک کے کردار پر بھی بات ہوئی۔

ایس ای سی پی کمشنر امتیاز حیدر نے بتایا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 309 درج شدہ سکیورٹیز شرعی اصولوں کے مطابق ہیں، جو مجموعی مارکیٹ سرمایہ کے 65 فیصد اور 13.2 کھرب روپے کی مالیت کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اسلامی میوچل فنڈز کے اثاثے جون 2023 کے 722 ارب روپے سے بڑھ کر جون میں 2.2 کھرب روپے ہوئے، جبکہ 389 میں سے 197 فنڈز شرعی اصولوں کے مطابق بتائے گئے۔

ان اعداد سے شعبے کی وسعت ظاہر ہوتی ہے، مگر مستقبل کی ترقی کے لیے معیار سازی، سرمایہ کار تحفظ، شفافیت اور ایسے ماہرین کی تیاری ضروری ہوگی جو جدید مالیات اور شرعی اصول دونوں سمجھتے ہوں۔ زرعی، مائیکرو، ہاؤسنگ اور سرمایہ کاری مالیات کے ماڈلز کا عملی اثر ان کے ضابطوں، قیمت، رسائی اور صارف نتائج سے جانچا جائے گا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک